شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 104
104 نے بتایا کہ وہ اس مباحثہ میں موجود تھا۔وہ بتاتا تھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے دلائل زیادہ تر قرآن مجید اور سنت اللہ پر مبنی تھے اور مخالف علماء تفسیر میں اور اقوال سلف پیش کر سکتے تھے۔اس وجہ سے وہ حضرت صاحبزادہ صاحب پر غالب نہ آ سکے۔علماء کا علم بھی اتنا زیادہ نہ تھا جتنا حضرت صاحبزادہ محمد عبد اللطیف صاحب کا تھا۔اس سے اس بات کی تصدیق جناب مغل باز خان رئیس بغدارہ نے بھی کی جو اس وقت مدرسہ سلطانیہ میں بطور طالبعلم موجود تھے۔وہ بھی حضرت صاحبزادہ صاحب کے تبحر علمی کے قائل تھے اور بتاتے تھے کہ قاضی عبد الرزاق ملاء حضور امیر بھی اقرار کرتا تھا کہ ہمیں حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرح نہ تو قرآن مجید پر عبور ہے اور نہ مباحثات کا تجربہ ہے۔(۱۰۴) صاحبزادہ سیدابوالحسن قدسی صاحب بیان کرتے ہیں کہ مباحثہ کے دوران ایک عالم جن کا نام غالباً مولوی احمد جان قندھاری تھا جب انہوں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے دلائل پر غور کیا تو وہ ان کی قوت اور برتری کے قائل ہو گئے اور احمدیت کی صداقت ان پر ظاہر ہوگئی اور انہوں نے فتنہ کے خوف سے کچھ عذرات پیش کر کے اپنے آپ کو مباحثہ سے الگ کر لیا - (۱۰۵) جب بحث کرنے والے علماء پر اپنی کمزوری واضح ہوگئی اور وہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے سوالات کے جواب دینے سے عاجز آ گئے اور ان کے دلائل کا رد نہ کر سکے تو انہوں نے سردار نصر اللہ خان کو اطلاع دی کہ صاحبزادہ صاحب پر پورے طور پر کوئی الزام لگا نا مشکل ہے۔اس نا کامی کو معلوم کر کے سردار نصر اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو اپنے پاس بلوایا۔جب آپ وہاں تشریف لے گئے تو سردار نصر اللہ خان نے کہا کہ یہ شخص میرے دربار کو پلید کر رہا ہے اسے دور کھڑا کرو۔اس پر سپاہیوں نے آپ کو زنجیروں سے پکڑ کر پیچھے پھینچ لیا۔سردار نصر اللہ خان اٹھا اور دربار میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ یہ شخص کہتا ہے کہ میں اگلے جہان سے آیا ہوں اور بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ