شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 92
92 چاہئے اتنا تم امیر سے ڈرتے ہو۔کیا میں خدا کے حکم کو امیر سے ڈر کر نہ مانوں؟ کیا قرآن سے تو بہ کرلوں یا حدیث سے دستبردار ہو جاؤں۔اگر میرے سامنے دوزخ بھی آ جائے تو اس بات سے ہرگز باز نہیں آؤں گا۔خوست کے حاکم نے بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ یہ باتیں نہ کریں لیکن آپ دلیری سے اپنے مؤقف پر قائم رہے۔(۸۵) آپ کے رشتہ داروں اور برادری نے اعلان کیا کہ ہم صاحبزادہ صاحب سے متفق نہیں۔ان کے عقیدہ کے خلاف ہیں اور بیزاری کے خطوط بھی لکھے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ تم ایسا اعلان کرنے سے بچ نہیں سکتے۔بہتر ہے کہ تم یہاں سے انگریزی علاقے میں بنوں چلے جاؤ اور نہ تمہیں میری وجہ سے بلا وجہ تکلیف ہوگی۔لیکن برادری نے بیزاری کے اعلان کو کافی سمجھا اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے مشورہ کی پرواہ نہیں کی۔(۸۶) سردار ان کا بل کو تبلیغی مخطوط حضرت صاحبزادہ صاحب نے سید گاہ سے سرداران کا بل کو پانچ تبلیغی خطوط تحریر کئے ان میں سے ایک خط مستوفی الملک بریگیڈئیر مرزا محمد حسین خان کوتوال کے نام تھا۔دوسرا سردارشاه خاصی عبد القدوس خان اعتمادالدولہ کو لکھا۔تیسرا مرزا عبدالرحیم خان دفتری کو۔چوتھا حاجی باشی شاہ محمد کو اور پانچواں خط قاضی القضاۃ عبد العزیز کے نام تھا۔ان خطوط میں آپ نے تحریر فرمایا کہ میں حج کے ارادہ سے روانہ ہوا تھا لیکن ہندوستان میں میری ملاقات حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے ہوئی جو قادیان میں رہتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کے لئے بھیجا گیا ہوں اور قرآن شریف اور احادیث کے مطابق وقت مقررہ پر آیا ہوں۔میں نے قادیان میں چند ماہ گزارے، ان کا دعویٰ سنا، ان کے افعال و اقوال کو غور سے دیکھا۔میں نے انہیں