شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 59
59 یہ شاگرد کون تھے اور کب قادیان آئے اس بارہ میں وضاحت نہیں مل سکی۔عام طور پر معروف تو یہی ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے وہ شاگرد جو پہلی دفعہ قادیان گئے وہ مولوی عبد الرحمن خان صاحب شہید تھے جن کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے خود تحقیق احوال کے لئے قادیان بھجوایا تھا۔(۱۹) افغانستان کے دوصحابی جو ۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں شامل ہیں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جنوری ۱۸۹۷ء میں اپنی کتاب انجام آتھم شائع فرمائی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اپنے ۳۱۳ صحابہ کے نام درج فرمائے۔اس فہرست میں نمبر 111 پر ایک نام یوں درج ہے: شیخ محمد عبد الرحمن صاحب عرف شعبان کا بلی“۔یہ صحابی مولوی عبد الرحمن خان صاحب شہید اول افغانستان معلوم ہوتے ہیں۔دوسرا نام نمبر ۳۱۶ پر یوں درج ہے: مولوی شہاب الدین صاحب غزنوی کا بلی“۔یہ دوسرے صحابی کون تھے اور کب قادیان آئے اور احمدی ہوئے اس بارہ میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ممکن ہے یہ وہی شاگرد ہوں جن کا ذکر مولوی عبدالستار خان صاحب نے کیا ہے کہ وہ حج کرنے گئے تھے اور دہلی میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سن کر قادیان چلے گئے اور حضوڑ کی بیعت کا شرف حاصل کیا اور قادیان سے واپس آتے ہوۓ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے درخواست کر کے امیر عبدالرحمن خان کے نام خط لے کر واپس آئے اس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔(۲۰) واقعہ شہادت میاں عبدالرحمن صاحب شاگر د حضرت صاحبزادہ محمد عبداللطیف صاحب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے تخمینا دو برس پہلے ان