شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 50 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 50

50 ایک بار گورنر نے ایک بوڑھے آدمی کو سزا دینے کے لئے بلایا۔اس نے حکم دیا کہ اس بوڑھے کو لٹا کر بید ماریں جائیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے خیال کیا کہ یہ بوڑھا اس سخت سزا کی برداشت نہیں کر سکے گا اور گورنر بھی غصہ میں ہے سزا دے کر ہی رہے گا۔آپ نے اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ لیا اور اس بوڑھے کے اوپر رکھ دئے تا کہ بید آپ کے ہاتھوں پر لگیں۔گورنر نے یہ دیکھا تو اپنے بیٹے سے کہا کہ اس شخص کو باہر لے جا کر سزا دلوائے تا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب نہ دیکھ سکیں۔بیٹے نے اس خیال سے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب اسے سزا نہیں دلوانا چاہتے ، اسے باہر لے جا کر چھوڑ دیا۔ایک دفعہ خوست کے ایک جرنیل نے رعایا پر بہت مظالم کئے۔لوگوں سے رشوت لی اور اطراف میں بہت سے لوگوں کے زبر دستی ختنے بھی کروا دئے۔ان کاموں سے فارغ ہوکر اس نے سید گاہ کے قریب ڈیرہ آ لگایا۔جمعہ کے روز اس نے پیغام بھجوایا کہ میرا انتظار - کیا جائے تاکہ میں شامل ہو سکوں لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب نے پرواہ نہیں کی اور وقت پر جمعہ شروع کر دیا۔جرنیل خطبہ کے دوران پہنچا۔بعد میں اس نے صاحبزادہ صاحب سے عرض کی میں نے دین کی بہت خدمت کی ہے۔ختنے کروا کے اتنے لوگوں کو مسلمان بنایا۔آپ نے فرمایا کہ خدمت دین کی ہے تو کیا ہوا۔تم نے ظلم کیا ، رشوت لی ،غریبوں کی چمڑی اتاری، تمہارا لباس بھی حرام مال سے تیار ہوا ہے۔اس میں نماز نہیں ہوتی۔وہ جرنیل شرمندہ ہوکر خاموش سا رہ گیا۔سردار شیر میں دل خان کے علاوہ اس کے اہل وعیال بھی حضرت صاحبزادہ صاحب سے عقیدت رکھتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت صاحبزادہ صاحب سردار شیر میں دل خان کے پاس بیٹھے تھے کہ اندرون خانہ سے ایک خادم کے ہاتھ شیرینی کی ایک قاب آپ کے لئے بھجوائی گئی۔آپ نے خوان پوش اٹھایا تو دیکھا کہ شیرینی کے اوپر ایک لفافہ پڑا ہے۔آپ نے لفافہ کھولا تو اس میں ایک خط تھا جو سردار صاحب کی بیگم صاحبہ نے آپ کے نام لکھا تھا جس میں یہ تحریر تھا کہ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ مجھے اپنی بیعت سے مشرف فرمائیں۔حضرت