شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 45 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 45

45 بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کا بھی استخفاف ہے جو حضور نے مسیح کی آمد ثانی کی بابت فرمائی تھی۔معلوم ہوتا ہے اگر چہ امیر عبدالرحمن خان انگریزوں کا وظیفہ خوار تھا اور اُسے اُن کی فوجی مدد بھی حاصل تھی لیکن در حقیقت وہ جہاد بالسیف کے ان غلط تصورات کا دلدادہ تھا جو اس زمانہ میں مسلمانوں میں رواج پاچکے تھے اور جن کی تردید سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی متعدد کتب میں فرمائی ہے۔یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ امیر عبدالرحمن خان کے منشاء کے مطابق ایک رسالہ تقویم الدین کے نام سے شائع کر کے سرحدی قبائل میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں انہیں انگریزوں سے جہاد بالسیف کرنے کی ترغیب دی گئی تھی جس سے یہ لوگ بے گناہ انگریزوں کو قتل کر کے اپنے زعم میں غازی بنتے تھے۔(4) افغانستان کے جنوبی علاقوں میں بغاوت اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی پر حکمت کا رروائی افغانستان کی زازی ، منگل، جدران اور چمکنی اقوام، کابل کی مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کرتی رہتی تھیں۔منگل قبیلہ کی بغاوت کے دوران جب یہ شورش بہت زور پکڑ گئی تو امیر عبدالرحمن خان نے اپنے ایک رشتہ دار سردار شیر میں دل خان کو اس کے رفع کرنے کے لئے لشکر دے کر بھجوایا۔اس نے خوست آکر بڑے رعب اور دبدبہ سے بغاوت فرو کرنا شروع کی۔حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب نے ہر طرح اس سے تعاون کیا۔سردار شیر میں دل خان بھی آپ سے مشورہ اور مد دلیا کرتا تھا۔بعض اوقات لڑائی کے دوران سرکاری فوج کو مشکلات کا سامنا ہوتا اور سردار صاحب پریشان ہو جاتے اور تذبذب میں پڑ جاتے کہ ان حالات میں کیا کارروائی کی جائے۔ایسے موقعہ پر حضرت صاحبزادہ صاحب ایسی کاروائی کرتے کہ سردار صاحب کی عقل دنگ رہ جاتی۔ایک مرتبہ ایک تنگ درّہ میں