شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 391 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 391

391 موعود علیہ السلام گورداسپور ہی میں مقیم ہو گئے۔مقدمے کے آخری ایام میں میں بھی گورداسپور چلا گیا تھا۔ان دنوں میں کچھ بیمار تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت ہوئی تو آپ نے بہت محبت سے میرا حال دریافت فرمایا اور فرمایا تم بیمارمعلوم ہوتے ہو حضرت خلیفہ اسیح اول نے بھی فرمایا کہ چہرے کا رنگ متغیر ہے۔حضور کی عادت تھی کہ کوئی چھوٹا آدمی بھی ملنے کے لئے آتا تھا تو یوں اس کا حال دریافت فرماتے تھے جیسے کسی بڑے آدمی کا حال دریافت کیا جاتا ہے۔پرسان حال کے وقت آپ کا لہجہ نہایت شیر میں ہوا کرتا تھا۔الغرض میں بھی وہیں مقیم ہو گیا۔ایک دن بذریعہ ڈاک ایک جرمن عورت نے حضور کو حلوہ بھیجا اور ساتھ ہی ایک خط لکھا کہ آپ سچے مسیح ہیں اور آپ وہی مسیح ہیں جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔حلوہ بہت ہی مقوی چیزوں سے بنا ہوا تھا۔حضور کی عادت تھی کہ جب آپ کے پاس کوئی چیز آتی تھی تو اس کو اپنے دوستوں میں بھی تقسیم فرمایا کرتے تھے اور اس میں ہر چھوٹے بڑے کا خیال رکھا کرتے تھے اگر چہ اس وقت میں وہاں موجود نہ تھا مگر حضور نے میرے لئے بھی حلوے میں سے عام تقسیم سے دُگنا حصہ رکھوایا۔جب میں نے اس حلوے کو کھایا تو میری بیماری اس حلوے سے دور ہو گئی۔مقدمہ کے متعلق ایک اور بات مقدمہ کرم دین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر لوگوں کو فرمایا کرتے تھے کہ یہ مقدمہ ہمارے حق میں ہو گا۔یہ مقدمہ دو سال تک لمبا ہو گیا۔اور اس کی طوالت کی وجہ سے طبیعتیں تنگ ہو رہی تھیں کہ کب فیصلہ ہو۔ایک دن کشفی حالت میں میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔انا لتنصر رسلنا۔میں نے اس کشفی حالت میں ہی کہا کہ مددکب دی جائے گی تو جواب میں یہ الفاظ جاری ہوۓ - اليوم ننصر رسلنا۔