شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 37 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 37

37 حضرت صاحبزادہ صاحب کے شاگر دسید احمد نور صاحب کا بلی نے محرم ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے حالات شائع کئے تھے۔انہوں نے آپ کی عمر ساٹھ اور ستر سال کے درمیان لکھی ہے۔میری رائے میں یہ اندازہ کی غلطی ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی عمر شہادت کے وقت جیسا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیه السلام۔تذکرۃ الشہادتین میں تحریر فرمایا ہے پچاس سال ہی تھی۔(۳) تحصیل علم کے سفر نے حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف نے ہندوستان میں مندرجہ ذیل مقامات پر علوم مروجہ کی تعلیم حاصل کی : امرتسر، لکھنؤ ، دیو بند اور ضلع پشاور - ان جگہوں پر ان کا مجموعی قیام کئی سال رہا۔حضرت صاحبزادہ صاحب عربی ، فارسی ، پشتو اور اردو زبانیں جانتے تھے۔جب آپ کا حصول علم کے لئے سفر کا ارادہ ہوا تو پہلے بنوں آئے۔یہاں کچھ عرصہ قیام کیا اس دوران میں علاقہ کے نمبردار آپ کے پاس آیا کرتے تھے اور آپ کی خاطر گھڑ سواری اور نیزہ بازی وغیرہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔آپ نے ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کی کہ اب برسات کا موسم ہے اسے گزر لینے دیں۔بارشوں کے بعد ہندوستان کا سفر کریں۔آپ نے یہ مشورہ قبول نہیں کیا اور اسی موسم میں روانہ ہو گئے۔آپ کے پاس بہت سا سامان اور نقدی تھی۔جب گرم دریا پر پہنچے تو وہ بہت چڑھا ہوا تھا۔پانی نہایت گدلا تھا۔آپ نے کپڑے اور سامان گھوڑے پر رکھا اور تہہ بند باندھ کر سوار ہو گئے اور گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ہم سفروں کے گھوڑے تو دریا عبور کر گئے لیکن آپ کا گھوڑا لہروں کی تاب نہ لا سکا اور ڈوبنے لگا۔آپ دریا میں کود گئے۔آپ کو تیرنا نہ آتا تھا، غوطے کھانے لگے۔اس دوران آپ کے لبوں پر یہ الفاظ تھے یا رحیم، یا رحیم، یا رحیم“۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور آپ دوسرے کنارے تک پہنچ گئے۔سامان اور نقدی سب ضائع ہو گئی۔