شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 371 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 371

371 اور حدیث کا بیان ان کے ہاں ہوتا تھا۔میں ایک دو جمعے اُن کا درس سننے کے لئے جاتا رہا۔اُن کے کلام اور وعظ نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ میں مستون کو چھوڑ کر سید گاہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس رہنے لگا۔کچھ دنوں کے بعد میرے استاد کا پیغام آیا کہ تم میری اجازت کے بغیر چلے گئے ہو میں تم سے بہت ناراض ہوں۔تمہیں ہرگز معاف نہیں کرونگا۔اُس وقت میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ میرا استاد ہے کہیں مجھے بد دعا نہ دے۔ایک طرف تو صاحبزادہ صاحب سے جدا ہونے کو دل نہیں چاہتا تھا، دوسری طرف اُس استاد کا خوف تھا۔آخر میں نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے بات کی اور سارا واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر کوئی شخص کسی مولوی کی شاگردی اختیار کر لے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ استاد کا غلام بن گیا ہے۔یہ آپ کی مرضی ہے جہاں آپ کا دل چاہے تعلیم حاصل کریں۔“ یہ بات سن کر میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں رہنے اور تعلیم پانے لگا۔میں نے ان سے بہت سے حقائق و معارف سنے۔ان کی باتیں میرے دل پر بہت اثر کرتی تھیں۔اُس زمانہ میں جو شیخان خوست میں رہتے تھے وہ پیر صاحب مانکی کے مرید تھے اور اُن کا عقیدہ تھا کہ ان کا پیر آسمان و زمین اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے اُس تمام مخلوق کا علم رکھتا ہے۔چونکہ میں پہلے اسی عقیدہ پر تھا میں نے اس کا ذکر حضرت صاحبزادہ صاحب سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ: و, یہ بالکل غلط ہے جو بھی پیر ومرشد اس دنیا میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کے حکم کے پابند ہیں اور اس کے قدم بقدم چلتے ہیں۔قطبیت غوشیت ، ولایت بزرگی بس یہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔(۲) صاحبزادہ ابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ آپ بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ کی محبت میں کچھ ایسے کھوئے گئے تھے کہ دنیاوی کاروبار کی طرف آپ نے کبھی توجہ نہ دی۔روزی کمانے