شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 358
358 افغانستان کے شہدا کا معاملہ لیگ آف نیشنز کو بھجوایا گیا جنیوا سوئٹزر لینڈ سے رائٹر نے ۲۰ فروری ۱۹۲۵ء کو یہ تارا اخبارات میں شائع کرنے کے لئے بھجوایا جماعت احمدیہ کے امام میرزا بشیر الدین محمود احمد نے لیگ آف نیشنز سے پُر زور اپیل کی ہے کہ حال ہی میں حکومت کا بل نے پندرہ پولیس کانسٹیبلوں اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کی موجودگی میں دو احمدی مسلمانوں کو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے سنگسار کر دیا ہے۔اس کے لئے دربار افغانستان سے باز پرس کی جائے۔(۹) اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور مورخہ ۷ افروری ۱۹۳۵ء کور قمطراز ہے کابل میں دو بیکس قادیانی افغان دوکانداروں کے قتل نے ہندوستان میں خوفناک خیالات کی رو پیدا کر دی ہے۔اور ضرور ہے کہ غیر ممالک میں بھی اس پر سخت حرف گیری ہو چند ماہ قبل نعمت اللہ خان کے سنگسار کئے جانے کی خبر ہندوستان میں پہنچی۔۔۔۔صاف ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی طرح افغانستان کے مذہبی متعصبین نے کا بل میں حکومت پر اپنا اثر جمالیا ہے۔یہ بات اس گفت و شنید پر افسوس ناک روشنی ڈالتی ہے۔جو کہ خوست کے باغی ملائے لنگ کے پروانہ راہداری اور حفاظت کے ساتھ کا بل میں پہنچنے کا باعث ہوئی۔کابل میں جو دو احمدی دوکاندار قتل کئے گئے ہیں۔ان کو کسی قسم کی سیاسی وقعت حاصل نہ تھی۔ان میں اور ان کے ہم پیشہ باقی تاجروں میں صرف یہ فرق ہے کہ وہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔دوسری طرف ہم اس ملائے لنگ کو دیکھتے ہیں۔جو خوست کی بغاوت کا روح رواں تھا کہ اسے کا بل میں حفاظت کا عہد دے کر لے جایا گیا۔حکومت افغانستان کے سرکاری عمائد نے اسے بڑے راہ و رسم سے خوش آمدید کہا۔کابل میں ایک مغلوب باغی کی۔۔۔۔اس طرح آؤ بھگت کی گئی۔گویا وہ گورنمنٹ کا معزز مہمان ہے۔اس کے بعد سرکاری اخبارات میں خوست سے آنے والے فوجیوں کی فاتحانہ پریڈ کا ذکر شائع ہوا۔اس پریڈ کے موقع پر ملائے لنگ اور