شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 357
357 خیال سے کانپ جاتا ہے۔میرے نزدیک اس خلاف انسانیت فعل کے ذمہ دار صرف حکام کابل یا وہ ہندوستان کے مولوی نہیں ہیں۔جنہوں نے مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت پر کابل گورنمنٹ کے فعل کو سراہا تھا۔بلکہ ہندوستان کے دوسرے مذہبی لیڈر بھی ہیں جنہوں نے پچھلے اجلاس کانگرس پر نعمت اللہ صاحب کی شہادت کے ظالمانہ فعل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے انسانی فعل کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا۔اگر کابل کی حکومت اس امر کو اچھی طرح محسوس کر لیتی کہ باقی دنیا اس کے اس ظالمانہ فعل کو انتہائی درجہ کی نفرت سے دیکھتی ہے۔تو وہ یقیناً دوبارہ اس قسم کے کام کرنے کی جرات نہ کرتی۔مگر اس نے اس امر کو دیکھ کر کہ مذہبی اختلاف لوگوں کو ایسا اندھا کر سکتا ہے اور قلیل التعداد ہونے کا جرم بالکل نا قابل معافی ہے۔یہ سمجھ لیا کہ احمدیوں کے ساتھ جو کچھ بھی سلوک کیا جائے وہ جائز اور درست ہے۔اس سے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ان کا یہ ظالمانہ فعل ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ہم سنگساریوں سے نہیں ڈرتے۔کابل گورنمنٹ دیکھ لے گی۔کہ اس کی یہ سنگساریاں ہمارے قدم کو اور بھی آگے بڑھائیں گی۔اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ صداقت جسے لے کر ہم کھڑے ہوئے ہیں افغانستان میں پھیل کر رہے گی۔مگر میرے نزدیک وہ لیڈ ر خواہ سیاسی ہوں یا مذہبی جو اس موقع پر اپنی پوری طاقت ان ظالمانہ افعال کے روکنے کے خلاف خرچ نہیں کرتے وہ دنیا کے امن اور صلح کے قیام کو پیچھے ڈال رہے ہیں۔ایسے واقعات جب تک دنیا سے مٹائے نہ جائیں تو کوئی صلح نہیں ہو سکتی ظلم اور صلح ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔پس میں آپ کو اس فرض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں ورنہ میں اور میری جماعت اس یقین کے ساتھ کہ آخر ہم ہی جیت کر رہیں گے۔اس راستہ پر چلنے کے لئے جس پر ہمارے یہ بھائی گئے ہیں۔بالکل تیار ہیں اور یقیناً خدا کی مدد ہمارے ساتھ ہوگی۔(۸)