شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 356 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 356

356 کئے گئے ہیں۔اگر حکومت ہند نعمت اللہ صاحب کی شہادت کے موقعہ پر اس ذمہ داری کو ادا کرتی۔جو ہر انسان پر ایسے موقعہ پر عائد ہوتی ہے تو میں سمجھتا ہوں ان ظالمانہ افعال کی تکرار نہ ہوتی۔بے شک کا بل گورنمنٹ کا یہ فعل اندرونی انتظام سے تعلق رکھتا ہے لیکن تاریخ اس پر شاہد ہے کہ یوروپین حکومتوں نے اس قسم کے اندرونی امور کے خلاف جو انسانیت کے خلاف تھے احتجاج کیا ہے۔جب میں لندن میں تھا تو مجھے سیکرٹری آف سٹیٹ کی طرف سے اطلاع ملی تھی کہ گورنمنٹ برطانیہ انفارمل طور پر اس معاملہ کے خلاف پروٹسٹ کرے گی۔مجھے معلوم نہیں کہ اس وعدہ کے مطابق کیا کارروائی کی گئی۔مگر بہر حال یہ تازہ واقعہ بتا تا ہے کہ یا تو کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔۔۔یا اس کا کابل گورنمنٹ پر کوئی اثر نہیں ہوا میں ایک دفعہ پھر آپ سے انسانیت کے نام پراپیل کرتا ہوں کہ اس خلاف انسانیت فعل کے خلاف کوئی موثر کارروائی کریں۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ جب ایک حصہ دنیا میں ایسے صریح ظالمانہ فعل ایک حکومت کی طرف سے ہو رہے ہوں۔دوسرے لوگ جو طاقت رکھتے ہوں کس طرح بلا اس کے کہ اس کو دور کرنے کی کوشش کریں آرام کی نیند سو سکتے ہیں۔اگر دنیا کا یہی رویہ ہے تو امن انصاف اور عدل کبھی بھی دنیا میں قائم نہیں ہو سکے گا۔آل انڈیا نیشنل کانگریس کے صدر کے نام تار مولوی نعمت اللہ صاحب کا بلی جن کو اکیس اگست ۱۹۲۴ء کو کا بل کی گورنمنٹ نے محض مذہب کی وجہ سے سنگسار کر دیا تھا۔ابھی ان کا غم تازہ ہی تھا کہ کابل میں دو اور احمدی تاجر فروری ۱۹۲۵ء میں محض احمدی ہونے کی وجہ سے سنگسار کر دیے گئے۔یہ خلاف انسانیت فعل۔۔۔ایسا بھیانک، ایسا ظالمانہ اور ایسا مکروہ ہے کہ اگر اُس روحانی تعلق کو جو مجھے ان لوگوں سے ہے نظر انداز بھی کر دوں تب بھی میرا دل اس کے