شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 334
334 معروف بہ سُور جرنیل نے دو احمدی برادران کو قید میں ڈال دیا تھا ان میں سے ایک کا نام سیّد سلطان شہید تھا قید خانہ میں ان پر بہت سختی کی گئی اور ان کو نان نمک کھلا کھلا کر بیمار کر دیا اس کے نتیجہ میں ان کی وفات واقعہ ہو گئی اور اس طرح مقام شہادت کو پہنچے۔دوسرے صاحب جن کا نام سید حکیم احمدی تھا ان کو بھی قید خانہ میں ڈالا گیا جہاں کی تکالیف کے نتیجہ میں وہ بھی شہید ہو گئے۔یہ کام سردار محمد عمر خان نے امیر نصر اللہ خان کی ہدایت پر کئے تھے اس کا حال پہلے بیان ہو چکا ہے۔محمد عمر سور جرنیل ظالم اور مرتشی تھا۔اکثر ہوشیاری اور چالا کی سے سزاؤں سے بیچ جاتا تھا آخرا میر امان اللہ خان کے زمانہ میں پکڑا گیا اور قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔جب بچہ سقا ؤ نے کا بل پر پہلا حملہ کیا تو اس کے بعد حکومت نے اس کو قید خانہ سے نکال کر باغیوں سے لڑنے کے لئے ایک لشکر دے کر بھجوا دیا لیکن لڑائی میں اس نے شکست فاش کھائی اور میدان جنگ سے بھاگ گیا اور اپنے ماتھے پر ذلت کا داغ لگا لیا پھر اس کو کوئی عہدہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس کی کوئی عزت افغان سوسائٹی میں باقی رہی۔تین بکروں کے ذبح کئے جانے کی پیشگوئی خدا تعالیٰ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ الہام خبر دی تھی کہ شَاتَانِ تُذبَحَانِ یعنی دو بکرے یا بکریاں ذبیح کی جائیں گی یہ الہام حضور کی زندگی میں ہی پورا ہوا یہ الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ وصفحہ ۵۱۱ میں طبع شدہ موجود ہے نیز اس کی تشریح حضور نے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین کے صفحہ ۶۹ وصفحہ ۷۰ میں فرما دی ہے کہ اس سے مراد مولوی عبدالرحمن خان شہید اوّل افغانستان اور حضرت صاحبزادہ سید مولوی محمد عبد اللطیف شہید کی شہادت ہے جو حضور کے زمانہ میں علی الترتیب ۱۹۰۱ء و۱۹۰۳ء میں کا بل میں ہوئیں۔اس کے بعد حضور کو یکم جنوری ۱۹۰۶ ء کو الہام ہوا کہ تین بکرے ذبح کئے جائیں گے