شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 324
324 جان کا خوف امان اللہ خان پر اس قدر غالب آچکا تھا کہ اس نے اس بیش قیمت مشورہ کو قبول نہ کیا اور اپنی فوج کو مقر کی طرف ہٹ جانے کا حکم دے دیا۔امان اللہ خان مقر میں بھی نہ ٹھہرا کیونکہ سلیمان خیل اس کے تعاقب میں بڑھ رہے تھے۔امان اللہ خان کا ہندوستان کی طرف فرار وہاں سے امان اللہ خان قلات زابل کی طرف ہٹ گیا اور وہاں سے اپنے سب حامیوں کو اسی حال میں چھوڑ کر خفیہ خفیہ انتظام کر کے اپنے اہل و عیال سمیت انگریزی علاقہ چمن میں جا پہنچا اور انگریزوں کی پناہ کا طالب ہوا۔جب اس کے ہندوستان کی طرف بھاگ جانے کی خبر اس کی اپنی قندھاری فوج کو ملی تو وہ نہایت بد دل اور شکستہ خاطر ہوئی اور امان اللہ خان کو برا بھلا کہتے ہوئے واپس قندھار چلی گئی۔(۸۵) امان اللہ خان پہلے تو چمن آیا اور وہاں سے کوئٹہ اور پھر بمبئی پہنچا۔وہاں چند روز قیام کیا اور پھر بحری جہاز میں ۲۲ جون ۱۹۲۹ء کو اطالیہ کا راستہ لیا جہاں وہ پناہ گزین کے طور پر اپنی وفات تک مقیم رہا - (۸۶) عنایت اللہ خان کی پشاور روانگی عنایت اللہ خان کی حکومت صرف دوشنبه و سه شنبہ ماہ شعبان ۱۳۳۷ھ تک جاری رہی یہ جنوری کا مہینہ ۱۹۲۹ ء سن تھا ۵ شعبان ۱۳۳۷ھ بروز چہارشنبہ وہ بذریعہ ملا شیر آقا مجددی افغانستان کا تخت ترک کر کے دستبردار ہو گیا۔اور ۱۶ / جنوری ۱۹۲۹ء کو بذریعہ ہوائی جہاز پشاور آ گیا۔جناب قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمد یہ صوبہ سرحد اس وقت گورنمنٹ ہاؤس پشاور میں بعہدہ نظارت مقرر تھے۔اور کابل سے آنے جانے والے ہوائی جہازوں کی نگرانی ان کے سپرد تھی پشاور ائیر پورٹ پر سفر کرنے والوں کے لئے موٹروں اور لاریوں اور سامان کی نگرانی کا انتظام وہی کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ جس دن سردار عنایت اللہ خان نے