شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 323 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 323

323 اور پشاور کی طرف روانگی اور بچہ سقاؤ کے امیر بننے کی خبریں قندھار میں پہنچ گئیں اس پر امان اللہ خان نے دوبارہ اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا اور علم شاہی کو بلند کرنے کا حکم دے دیا امان اللہ خان کے اس اعلان کو بیرونی حکومتوں نے تسلیم نہ کیا اور غالباً اسے امان اللہ خان کی تلون مزاجی اور عدم استقلال پر محمول کیا۔امان اللہ خان نے اپنی فوج تیار کرنے کی کوششیں شروع کر دیں اس نے سردار عبد العزیز خان بارک زئی کو اپنا وزیر جنگ مقرر کیا جو ایک نہایت مرتشی اور بددیانت افسر تھا اور جس کی بدانتظامی اور رشوت خوری کے سبب حکومت کو سمت مشرقی اور سمت شمالی کے باغیوں کے مقابلہ پر نا کامی ہوئی تھی۔کچھ فوج اور سامانِ حرب ہرات سے منگوایا گیا اور کچھ اسلحہ ہندوستان کی راہ سے یورپ سے لایا گیا تھا اور اب تک قندھار میں پڑا تھا رفتہ رفتہ ہیں پچیس ہزار کے درمیان قبائلی اور سرکاری فوج جمع ہوگئی۔اس طرح کل تقریباً تمہیں ہزار کس کا لشکر لے کر امان اللہ خان اپنا کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جانب کا بل روانہ ہوا راستہ میں کچھ مزاحمت ہوئی لیکن بالآ خر غزنی پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔یہاں بچہ سقاؤ کی فوج کا قبضہ تھا لیکن ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی اس لئے وہ بجائے کھلے میدان میں آکر جنگ کرنے کے غزنی میں قلعہ بند ہو گئے اور قریب تھا کہ امان اللہ خان غزنی فتح کر لیتا لیکن عین وقت پر قبیلہ سلیمان خیل کا لشکر سقاویوں کی مدد کے لئے آ گیا اور اس نے ایک گھمسان کی جنگ کے بعد امان اللہ خان کی فوج کو پیچھے دھکیل دیا۔قبیلہ سلیمان خیل کا لشکر اس لئے سقاویوں کی امداد کے لئے آیا کہ اس قبیلہ کے لوگ ملاً شور بازار کے مرید اور ملا شیر آقا کے ہم نوا تھے۔چونکہ یہ لوگ امان اللہ خان سے بیزار ہو چکے تھے اور امان اللہ خان بھی ان سے متنفر تھا اس لئے یہ قبیلہ بچہ سقاؤ سے جاملا تھا اور اس کے ساتھ مل کر سرکاری فوجوں سے لڑ رہا تھا۔اس شکست سے امیر امان اللہ خان بے دل ہو گیا۔اس کو ہزار سمجھایا گیا کہ وہ اپنے حامی قبیلہ وردک کے علاقہ میں داخل ہو جائے جو برابر سقاویوں سے جنگ کر رہے ہیں مگر