شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 295 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 295

295 آئے۔ہم ان حالات اور مشکلات سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔جن میں یہ واقعات پیش اسلام نے ہر صاحب عزت و اقتدار کی تو قیر کرنے اور اس کی شان کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔اس لئے ہمارا بھی فرض تھا کہ ہم اپنے ملک میں شاہ کا بل کی تشریف آوری پر اپنے مخلصانہ جذبات کا اظہار کرتے۔‘ (۷۸) امیر امان اللہ خان کی شہر بمبئی میں مصروفیات اور بحری جہاز راجپوتانہ کے ذریعہ بیرونی سیاحت کو روانگی بمبئی میں ۱۶ / دسمبر کو جامعہ مسجد میں امیر امان اللہ خان جمعہ کے لئے تشریف لائے اس وقت پچاس ہزار آدمیوں کا اجتماع تھا۔نمازیوں کی درخواست پر ہر میجسٹی نے خطبہ پڑھا۔جس کا موضوع دوسرے مذاہب سے رواداری کا برتاؤ کرنے کے متعلق تھا۔اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے سخت شرم کی بات ہے کہ وہ مسئلہ گاؤ کشی کے متعلق بھی ہندوؤں کے جذبات کا احترام نہیں کر سکتے۔بعد دو پہر بلد یہ بمبئی کا سپاس نامہ پیش ہوا۔اس کا جواب ہر میجسٹی نے فارسی زبان میں دیا۔اور فرمایا کہ مخلصانہ خیر مقدم کے اظہار نے میرے دل پر اثر کیا ہے۔جب سے میں نے سر زمین ہندوستان پر قدم رکھا ہے۔ہر جگہ اخلاص اور محبت کا اظہار کیا گیا ہے اور میں اس سرگرمی اور جوش و خروش کے نظارے کو جو میں نے دیکھا کبھی فراموش نہ کروں گا۔اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے تاکید فرمائی کہ فرقہ وارانہ اختلافات کو ترک کر دو۔مندر میں پوجا کرو یا مسجد میں عبادت یا گرجے میں دعا۔لیکن پھر بھی تم بھائیوں کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہو۔۱۷ دسمبر کو اعلیٰ حضرت شہر یا را افغانستان کی خدمت میں تین سپاس نامے پیش کئے گئے ایک سپاس نامہ ایرانیوں اور پارسیوں کی طرف سے مشترکہ طور پر پیش کیا گیا۔دوسرا وفد جسے باریابی حاصل ہوئی مسلم سٹوڈنٹس یونین کا وفد تھا اس کے سپاس نامہ