شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 288 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 288

288 اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے اول یورپین ممالک میں افغانستان کی با قاعدہ سفارتیں قائم کیں۔تا کہ حکومت افغانستان کا رابطہ ترقی یافتہ ممالک سے حکومتی لیول پر زیادہ سے زیادہ ہو۔دوسرے افغان طلبہ کی ایک بڑی تعداد فرانس، جرمنی ، اٹلی ، ترکی اور روس و غیرہ ممالک میں مختلف علوم وفنون کی تحصیل کے لئے روانہ کی تاکہ ان کے ملک میں بہت کم عرصہ میں ہر فن وعلم کے ماہرین موجود ہوں اور وہ اس ضمن میں اغیار کا دست نگر نہ رہے۔اس کے علاوہ انہوں نے مختلف اوقات میں اپنی حکومت کے بہت سے کارندوں کو مختلف مقاصد کے لئے یورپ کی سیاحت کا موقعہ دیا تا کہ وہ جدید خیالات سے مانوس ہوں اور اپنے کہنہ اور فرسودہ خیالات کو بدل سکیں اور دنیا کے متمدن ممالک کے حالات کو دیکھ کر ان میں بھی اپنے ملک کو جدید لائنوں پر ترقی دینے کا جذبہ اور خواہش پیدا ہو جب ایسے اشخاص کچھ عرصہ باہر قیام کر کے اپنے ملک میں واپس لوٹتے تو نئے خیالات سے متاثر ہو کر نئی نئی تجاویز ملک کی بہبودی کے لئے بادشاہ کے پاس پیش کرتے تھے۔جن میں سے اکثر ایسی ہوتی تھیں کہ امیر امان اللہ خان کو بھی عجیب معلوم ہوتی تھیں اور اسے ان کی حقیقت سمجھنے میں مشکل پیش آتی تھی اس لئے نوبت یہاں تک پہنچی کہ امیر نے محسوس کیا کہ وہ جب تک خود ایک دفعہ یورپ کی سیاحت نہ کر آئیں نہ تو وہ ان جدیدا مور کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور نہ ان پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔اس لئے اپنی دور حکومت کے آخری چند سالوں میں اکثر بیرون ممالک کی سیاحت کا ذکر کیا کرتے تھے۔جہاں تک افغان پبلک کا تعلق تھا وہ بیرون ممالک کے سفر کو ایک بے بنیا د تصور یقین کرتی تھی۔کیونکہ اس سے پہلے کبھی افغانستان کا کوئی بادشاہ مغربی ممالک کی سیر کو نہ گیا تھا یہی وجہ تھی کہ امیر امان اللہ نے آخری سالوں میں اپنی توجہ اور وقت ان معترضین کے دلائل کی تردید اور ان کے اعتراضوں کے جوابات میں صرف کیا جو ان کے دورہ بیرون کے خلاف تھے۔اگر چه امیر امان اللہ خان افغانستان کے خود مختار بادشاہ تھے لیکن دنیا کے دوسرے