شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 287
287 افغانستان میں تمہیں اور احمدی گرفتار کر لئے گئے ہیں اور دو شہید کر دیئے گئے ہیں پشاور سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ کابل میں مولا نا عبد الحلیم ساکن چہار آسیہ اور قاری نور علی صاحب کو ۵ فروری ۱۹۲۵ء کو سنگسار کر کے شہید کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ تمیں اور احمدی احباب اس وقت جیل خانوں میں محبوس ہیں۔مولا نا عبد العلیم صاحب پرانے مخلص۔اور فاضل دوست تھے اور ان کو حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ نے سلسلہ احمدیہ میں بیعت لینے کے لئے مقرر کیا تھا۔(۷۱) خوست کے باغی ملاؤں ملا عبد اللہ مشہور بہ ملائے لنگ اور اس کے داماد کو جن کی انگیخت پر مولوی نعمت اللہ صاحب کو سنگسار کیا گیا تھا معافی کا وعدہ دے کر کا بل لا یا گیا تو کچھ عرصہ تو امیر امان اللہ خان نے ان کو عزت و احترام کے ساتھ ٹھہرایا۔لیکن جب بغاوت رفع ہو گئی اور منگل۔چمکنی جدران وغیرہ قبائل کو دبا دیا گیا اور اس علاقہ میں مرکزی حکومت کی حکومت دوبارہ قائم ہو گئی اور فوجیں واپس چلی گئیں تو امیر امان اللہ خان کی نیت بدل گئی اور اس نے ان لوگوں سے بھی بدعہدی کی ان ملاؤں کو امیر امان اللہ خان کے دربار میں پیش کیا گیا تو اس نے ان کی موجودگی میں کہا کہ ” خدا کا شکر ہے کہ میرا غیورلشکران ملعون غدا رکتوں کی گردنوں میں پٹہ ڈال کر میرے سامنے لے آیا۔میں خدا سے دعا گو ہوں کہ آپ ہمیشہ اس قسم کے کتوں کو پکڑ کر شیروں کی طرح اپنے پدر عاجز کے پاس لایا کریں۔“ بالآ خرا میرامان اللہ خان نے ان کو قتل کرا دیا۔(۷۲) امیر امان اللہ خان کی سیاحت بیرون افغانستان امیر امان اللہ خان افغانستان کی ترقی اور بہبود کی آرزو رکھتے تھے اور افغانستان کو ایک ایسے دستور العمل کے ماتحت چلانا چاہتے تھے جو ساحرانہ کرشمہ گری کے ساتھ ایک قلیل عرصہ میں ایک پس ماندہ ملک کو ترقیات کے میدان میں کہیں سے کہیں لے جائے اور جدید ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دے۔