شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 284
284 نے ایک پروٹسٹ میٹنگ کی۔حضرت خلیفہ امیج بھی تشریف لائے اور میٹنگ کی کارروائی ختم ہونے پر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔۔۔وو یہ بات متواتر تجربات سے ثابت ہو چکی ہے کہ ظالم کے ظلم کا وبال آخر ظالم پر ہی پڑتا ہے۔آج تک کوئی ایک نظیر بھی ایسی دنیا میں نہیں ملتی کہ کوئی ظالم ظلم کر کے پھر کامیاب ہو گیا ہو۔ہمیشہ ظالموں نے اپنے ظلم سے صداقت اور راستی کو دنیا سے مٹانا چاہا مگر وہ اپنے ا مقصد میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ہزار ہا سال گزر گئے اور اس میں ہزاروں ہی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ہمارے دل میں یہ شک اور شبہ پیدا نہیں ہوسکتا کہ شاید اب کوئی ظالم ظلم کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے اور اس کے ظلم سے صداقت اور راستی دنیا سے مٹ جائے۔۔کسی کا اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں کسی کو مارڈالنا یا قتل کر دینا صداقت میں شک اور شبہات کا موجب نہیں بن سکتا اور نہ اس سے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ ہمارا کیا حال اور انجام ہو گا۔صداقت اپنے آپ اپنی جڑ پکڑتی ہے۔کسی انسان کی مدد کی وہ محتاج نہیں۔جو اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہونے والا ہو۔اس کو اس امر کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کوئی چھوٹی یا بڑی طاقت اس کی امداد میں کھڑی ہو۔” مجھے اس بات کا خیال نہیں اور نہ ہمارے دلوں میں اس قسم کا خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ جس کام اور جس صداقت کے قیام کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے یا وہ لوگ جو احمدی ہیں اور حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہیں۔وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور صداقت دنیا میں پھیلنے سے رک جائے گی۔بلکہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ امیر کی یہ بالکل بچوں کی سی حرکات ہیں جس طرح بچہ اسکول جانے سے انکار کرتا ہے اور باپ اس کو پکڑ کر اسکول میں لے جاتا ہے کہیں وہ کاتا ہے اور کہیں وہ لاتیں مارتا ہے کہیں کپڑے پھاڑتا ہے۔یہی حالت حکومت کا بل کی ہے وہ لاتیں مارتی اور ہمیں کاٹتی ہے مگر وہ اخلاقی سکول جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کھولا گیا اس میں اس کو ضرور داخل ہونا پڑے گا۔۔۔۔ان کو بھی اس