شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 271 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 271

271 اسلام کے متعلق قرار دیتے ہوئے امیر افغانستان کو تحسین و آفرین کے تار ارسال کئے ہیں۔علماء کی شان تو اس سے بالا تر ہے کہ ہم ان کے متعلق کسی قسم کی لب کشائی کی جرات کر سکیں۔البتہ ہمیں افسوس ان جرائد اسلامیہ پر ہے۔جنہوں نے حکومت افغانستان کی بے جاطر فداری کے جوش میں اس امر کو قطعاً فراموش کر دیا ہے کہ اس غیر اسلامی فیصلہ کو مطابق اسلام قرار دینے سے دین الفطرۃ کے دامن پر بد نما دھبہ تو نہیں لگے گا۔یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ افغانستان کے اس فیصلے سے پہلے مسلم معاصرین فرقہ احمدیہ کو ایک اسلامی فرقہ تسلیم کرتے تھے۔اور فتنہ ارتداد کے متعلق اس کے افراد کی مساعی حسنہ کو اپنے کالموں میں انتہائی استحسان کے ساتھ درج کیا کرتے تھے۔ممالک غیر میں اشاعت اسلام کے متعلق ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان اختلافات کو فرعی قرار دیتے تھے جو احمدی و غیر احمدی مسلمانوں کے عقائد میں موجود ہیں۔پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کونسا نیا تغیر فرقہ احمدیہ کے عقائد میں رونما ہو گیا ہے کہ وہ ایک احمدی کو مرتد قرار دینے لگے ہیں۔ہم پوچھتے ہیں کہ جو لوگ خدائے قدوس کی توحید پر ایمان رکھتے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے قائل ہیں۔قرآن پاک کو کتاب اللہ مانتے ہیں۔کعبہ مقدسہ کی جانب نمازیں ادا کرتے ہیں۔ہمارے ہاتھ کا ذبیحہ کھا لیتے ہیں۔غرض تمام ارکان اسلام میں ہمارے ساتھ متفق ہیں کیا صرف اس بناء پر کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے عصری جسم کے ساتھ آسمان پر جانے کے قائل نہیں اور مرزا صاحب کو فناء فی الرسول شریعہ محمدیہ کا تابع اور ظلی نبی سمجھتے ہیں۔انہیں مرتد یا کا فرقرار دینا جائز ہے؟ کیا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادعُلَماءُ أُمتى كَانبیاء بنی اسرائیل کو آپ فراموش کر چکے ہیں۔قرآن حکیم کی یہ آیت کہ يا ايها الذين آمنو إِذَا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تلقوا لِمَنْ القَى عليكم السلام لست مومنا۔۔۔۔۔الخ (سورة النساء