شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 262 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 262

262 تحریک کی۔اگر ان خیالات ، اس تربیت اور ان عقائد کو مٹانا ہمارا فرض ہے تو ضروری ہے کہ ہم اس واقعہ کو ہر وقت یا درکھیں۔اور اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اس کے ذریعہ اپنے اندر جوش پیدا کریں اور پھر اس جوش کو دبائیں نہ کہ آنسوؤں کے ذریعہ نکل جانے دیں۔۔چونکہ نعمت اللہ خان صاحب شہید کی شہادت دین کی خدمت کے لئے ہوئی ہے اس لئے باوجود طبائع میں جوش اور طبیعت کے رقت کی طرف فطرتاً مائل ہو جانے کے جہاں ایسا موقعہ ہو۔وہاں اس جوش اور رقت کو دبانا چاہئے۔ورنہ اس کے یہ معنی ہونگے کہ ہم اس جوش کو مٹانا چاہتے ہیں جو اس واقعہ نے پیدا کیا ہے۔”دیکھو دوران لڑائی میں کوئی شخص نہیں روتا۔خواہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا بیٹا ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہو یا اس کا بھائی ریزہ ریزہ ہو رہا ہو یا اس کے باپ کی گردن دشمن اتار رہا ہو۔ہاں لڑائی کے بعد اس کے آنسو نکلیں گے کیونکہ آنسو اسبات کی علامت ہیں کہ کام ہو چکا۔اب آرام کا وقت ہے۔پس ہمیں اپنے آنسوؤں کو اس وقت تک روکنا چاہئے۔جب تک ہم اس واقعہ کے حقیقی انتقام سے فارغ نہ ہو لیں جس کا لینا ہر ایک مومن کا فرض ہے۔۔”خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلَا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتاً بل احیاء کہ شہید مرتا نہیں۔جہاں خدا تعالیٰ کے اس کلام میں ایک نہایت لطیف امر کی طرف اشارہ ہے۔وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جن کے کام کی شراکت کرتے ہوئے شہید جان دیتا ہے۔وہ چونکہ اس کے کام کو جاری رکھتے ہیں۔اس لئے وہ زندہ ہوتا ہے۔پس ہمیں اپنے جوشوں اور جذبات کا مفید استعمال کرنا چاہئے۔نہ کہ آنسو بہا کر آرام حاصل کرنا چاہئے۔یا د رکھو کہ وہ پانی جو بہ گیا وہ بہ گیا لیکن جسے روک لیا جائے وہ بڑے بڑے عظیم الشان کام کرتا ہے۔پس یہ جذبات جو واقعہ شہادت سے ہمارے اندر پیدا ہوئے ہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور وہ خیالات نا پاک، وہ عقائد باطلہ اور وہ تربیت خراب جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں ان کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔میرے نزدیک کابل کے علماء یا امیر امان اللہ خان صاحب یا امیر حبیب اللہ خان