شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 255
255 خاندانوں کے نوجوانوں کو ہندوستان میں لاویں۔پھر قادیان میں ان کو کچھ عرصہ تک رکھا جائے اور ان کو سلسلہ سے واقف کر کے ، چھ سات ماہ بعد ان کے وطن واپس کر دیا جائے۔جو شخص ایک ماہ بھی قادیان میں رہے گا۔اس کا بغیر احمدی ہونے کے واپس جانا ، بظا ہر خلاف توقع ہے۔اور ہمیں یہی امید کرنی چاہئے کہ ان میں سے سو فی صدی ہی احمدی ہو کر جائیں گے۔یہ لوگ جب واپس جائیں گے تو اپنے اپنے علاقہ کے لئے مبلغ کا کام دیں گے اور صرف اپنے رشتہ داروں میں تبلیغ کریں گے اور اس طرح چند سال میں ہی ایک معقول تعداد نو احمدیوں کی افغانستان میں پیدا ہو جائے گی۔یہ ضروری ہے کہ ایسے لوگ مختلف علاقوں اور شہروں سے آئیں تا ایک ہی وقت میں سب طرف احمدیت کا اثر پھیل جائے۔اس کے لئے ہمیں تین چار آدمی مقرر کرنے چاہئیں جو ہر وقت افغانستان میں چکر لگاتے رہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر افغانستان کے باشندوں میں سے جو اس کام کے پہلے حقدار ہیں۔اس بات کے لئے آدمی نہ ملیں تو پنجابیوں اور خصوصاً سرحد یوں کو اس کام کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔۔۔۔۔افسوس کے میری ذمہ داریاں مجھے اجازت نہیں دیتیں اور نہ میری کوئی بالغ اولاد ہی ہے کہ وہ میری دلی تڑپ کو پورا کرے۔اس لئے میں خونِ دل پی کر خاموش ہوں۔اور چونکہ کسی کو دل کھول کر نہیں دکھایا جا سکتا۔اس لئے اپنی حالت کا اظہار بھی نہیں کر سکتا ورنہ خدا شاہد ہے اس کی راہ میں مرنے کی خواہش میں مرا ہر ذرہ تن جھک رہا ہے التجا ہو کر اے عزیز و ! اب وقت تنگ ہے اور میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں۔طبیعت میری ابھی تک بیمار ہے مگر میں اپنے رب کے ہاتھ میں ہوں اور آپ کو بھی اسی کے سپر د کرتا ہوں۔نعم المولى ونعم النصير و السلام خاکسار مرزا محمود احمد (۴۵)