شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 254
254 نے ( مولوی ) نعمت اللہ خان کی شہادت پر مجھ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔اور اس عزم نے کہ وہ نعمت اللہ خان کے کام کو جاری رکھیں گے۔مجھ پر بہت اثر کیا ہے۔بعض اوقات میں فخر محسوس کرنے لگتا ہوں کہ میری امامت میں ایسے بہادروں کی جماعت ہے۔(۴۴) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کے مکتوب از لندن میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کا ذکر اور جماعت احمدیہ کو نصائح میں اس تکلیف دہ واقع کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو کا بل میں ہوا۔مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت معمولی بات نہیں ہے کیونکہ افغانستان کے پہلے فعل اگر جہالت کے ماتحت تھے۔تو یہ دیدہ دانستہ ہے۔اب افغانستان کی گورنمنٹ ہمارے اصول سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہے۔اور اس کا یہ فعل نہایت قابل افسوس ہے۔مگر مسلمان لڑنے کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے لئے قربان ہونے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے ہمیں اپنے خیالات کی رو کو صلح اور امن کی طرف پھیرنا چاہئے نہ کہ بغض اور فساد کی طرف۔وو پس ہمیں افغانستان کی گورنمنٹ اور اس کے فرمانروا کے خلاف دل میں بغض نہیں رکھنا چاہئے۔بلکہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اب بھی ان کو ہدایت دے۔" بے شک یہ کام مشکل ہے مگر اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ صبر مشکل ہے۔ہمیں اپنی پوری توجہ اس کام کے جاری رکھنے کے لئے کرنی چاہئے۔جس کی خاطر مولوی نعمت اللہ صاحب نے جان دی ہے۔ہمیں افغانستان میں تبلیغ کے سوال پر خاص غور کرنا چاہئے۔وہاں کھلی تبلیغ کا دروازہ تو سر دست بند ہے۔مگر ہمیں اس ملک کو ایک دن کے لئے بھی نہیں چھوڑ نا چاہئے۔وو چاہئے کہ ہمارے مخلص دوست اپنے اپنے علاقوں میں جا کر وہاں سے بااثر