شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 249
249 آزاد ہونے کے بعد ۴ ا دن کے اندرفوت ہو گیا۔شروع جولائی میں مولوی نعمت اللہ خان کو بھی حکام نے بلایا اور بیان لیا کہ کیا وہ احمدی ہیں۔انھوں نے حقیقت کو ظاہر کر دیا اور ان کو بیان لے کر چھوڑ دیا گیا۔اس کے چند دن بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا۔اور پھر علماء کی کونسل کے سامنے پیش کیا گیا۔جس نے اار اگست (۱۹۲۴ء) کو ان سے بیان لیا کہ وہ احمد کو کیا سمجھتا ہے۔انھوں نے اپنے عقائد کا اظہار کیا جس پر علماء کی کونسل نے ان کو احمدی قرار دے کر مرتد قرار دیا اور موت کا فتویٰ دیا۔اس کے بعد ۱۶ / اگست ۱۹۲۴ء کو ان کو علماء کی اپیل کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس نے پھر بیان لے کر ماتحت عدالت کے فیصلہ کی تائید کی اور فیصلہ کیا کہ نعمت اللہ خان کو ایک بڑے ہجوم کے سامنے سنگسار کیا جائے۔۳۱ راگست کو پولیس نے ان کو ساتھ لے کر کابل کی تمام گلیوں میں پھرایا۔اور وہ ساتھ ساتھ اعلان کرتی جاتی تھی۔کہ اس شخص کو ارتداد کے جرم میں سنگسار کیا جائے گا۔لوگوں کو چاہیے کہ وہاں چلیں اور اس نیک کام میں شامل ہوں۔اسی دن شام کے وقت کا بل کی چھاؤنی کے ایک میدان میں ان کو کمر تک گاڑا گیا اور پہلا پتھر کا بل کے سب سے بڑے عالم نے مارا اس کے بعد ان پر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش شروع ہوگئی۔یہاں تک کہ وہ پتھروں کے ڈھیر کے نیچے دب گئے۔۔۔۔اس کے بوڑھے باپ نے جو احمدی نہیں ہے گورنمنٹ سے درخواست کی کہ وہ اس کو لاش دے دیں تا کہ وہ اس کو دفن کر دے مگر گورنمنٹ نے اس کی لاش کو دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔د کابل گورنمنٹ نے مولوی نعمت اللہ خان کو سنگسار کرنے سے پہلے بار بار احمدیت کے چھوڑ دینے کی صورت میں آزادی کا انعام پیش کیا۔مگر مولوی نعمت اللہ شہید نے ہر دفعہ اسے حقارت سے رد کر دیا اور ضمیر کی آزادی کو جسم کی آزادی پر ترجیح دی۔وو جب ان کو سنگسار کرنے کے لیے گاڑا گیا تب پھر آخری دفعہ ان کو ارتداد کی تحریک