شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 24 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 24

24 آپ تکلیف نہ کریں۔آپ نے فرمایا۔نہیں تکلیف بالکل نہیں۔پھر مجھے فرمایا۔میاں غلام حسین ان کو شربت پلاؤ۔میں اندر گیا۔حضرت اُم المومنین سے عرض کی۔انہوں نے فرمایا۔اس وقت ٹھنڈا پانی نہیں ہے۔بڑی مسجد کے کوئیں سے لے آئیں۔میں نے پانی لا کر دیا۔حضرت اُم المومنین نے شربت بنا کر مجھے دیا۔میں نے باہر آ کر مولوی صاحب کو پیش کیا۔انہوں نے ایک گلاس پیا تو حضور نے فرمایا اور پیئیں۔چنانچہ انہوں نے ایک گلاس اور پی لیا۔کچھ شربت بچ گیا تھا۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ آپ بھی پی لیں۔فرمایا نہیں لے جاؤ۔حضرت صاحب نے بعد میں مجھے فرمایا کہ یہ بہت دور سے آئے ہیں ان کے لئے کھانا الگ تیار کیا کرو اور اچھا کھانا ان کو کھلایا کرو۔مولوی صاحب قریباً دو ماہ قادیان رہے۔میں ان کے لئے ایک وقت پلاؤ پکا یا کرتا تھا۔میں نے ان کی خوب اچھی خاطر مدارات کی۔مولوی صاحب مجھ سے بہت خوش تھے اور حضرت صاحب بھی ان کی خاطر کی وجہ سے مجھ پر بہت خوش تھے۔پھر مولوی صاحب واپس چلے گئے۔‘ (۱۹) ۲) ملک غلام حسین صاحب رہتا سی کی ایک اور روایت ہے کہ مولوی عبد الرحمن صاحب کا بلی قریباً چھ ماہ یا ایک برس کے بعد پھر قادیان تشریف لائے۔اس دفعہ بھی حضور کے لئے بہت سی چیزیں لائے۔ان میں سے ایک پوستین بھی تھی۔میں نے ان کے آنے کی حضور کو اطلاع کی۔حضرت صاحب نے انہیں اندر ہی بلا لیا۔انہوں نے وہ چیزیں اور پوستین حضور کی خدمت میں پیش کی۔حضرت صاحب نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔اور فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نے بہت تکلیف کی۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور ! یہ پوتین حضور کی خاطر لایا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ حضور میرے سامنے پہنیں۔حضرت صاحب کھڑے ہو گئے اور وہ پوستین پہنی وہ حضور کے ٹخنوں تک آتی تھی۔شام کے کھانے کے دوران خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور ! مولوی عبد الرحمن صاحب ایک پوستین لائے ہیں۔بڑا قیمتی اور گرم ہے اور نہایت اعلیٰ درجہ کی تیار ہوئی ہے۔حضور نے فرمایا۔خواجہ صاحب ! آپ کو بہت پسند ہے۔آپ ہی لے لیں۔خواجہ صاحب نے عرض کیا حضور بڑی۔