شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 248 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 248

248 اس چٹھی کے جواب میں وزیر خارجیہ افغانستان کی ایک چٹھی مئی ۱۹۲۱ ء میں آئی جس میں لکھا تھا کہ احمدی اسی طرح اس ملک میں محفوظ ہیں جس طرح دوسرے وفا دار لوگ۔ان کو احمدیت کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ دی جائے گی اور اگر کوئی احمدی ایسا ہے جسے مذہب کی وجہ سے تکلیف دی جاتی ہو تو اس کا نام اور پتہ لکھ دیں گورنمنٹ فوراً اس کی تکلیف کو دور کر دے گی۔اس کے کچھ عرصہ بعد خوست کے علاقہ میں بعض احمد یوں کو پھر تکلیف ہوئی تو احمد یہ جماعت کی شملہ کی لوکل شاخ نے سفیر کا بل متعینہ ہندوستان کو اس طرف توجہ دلائی اور ان کی معرفت ایک درخواست گورنمنٹ کا بل کو بھیجی جس کا جواب مؤرخہ ۲۴ مئی ۱۹۲۳ء کو سفیر کا بل کی معرفت ان کو یہ ملا کہ احمدی امن کے ساتھ گورنمنٹ کے ماتحت رہ سکتے ہیں۔ان کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا۔باقی وفا دار رعایا کی طرح ان کی حفاظت کی جائے گی۔اس خط میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا۔کہ یہ معاملہ ہنریجیسٹی امیر کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور ان کے مشورہ سے جواب لکھا گیا ہے۔شملہ کی لوکل احمدی انجمن کی درخواست میں احمد یہ عقائد کا بھی تفصیلاً ذکر کیا گیا تھا اور گورنمنٹ افغانستان نہیں کہہ سکتی کہ اس کو پہلے احمدی عقائد کا علم نہ تھا۔اس طرح متواتر یقین دلانے پر کابل اور اس کے گرد کے احمدی ظاہر ہو گئے۔مگر علاقوں کے لوگ پہلے کی طرح مخفی ہی رہے کیونکہ گورنمنٹ افغانستان کا تصرف علاقوں پر ایسا نہیں کہ اس کی مرضی پر پوری طرح عمل کیا جائے۔وہاں لوگ قانون اپنے ہی ہاتھ میں رکھتے ہیں۔اور بار ہا حکام بھی لوگوں کے ساتھ مل کر کمزوروں پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ہم خوش تھے کہ افغانستان میں ہمارے لیے امن ہو گیا ہے کہ ۱۹۲۳ء کے آخر میں اطلاع ملی کہ دو احمدیوں کو افغانستان کی گورنمنٹ نے قید کر لیا ہے جن میں سے ایک کا بیٹا بھی ساتھ ہی قید کیا گیا ہے۔ان دو میں سے ایک تو دے دلا کر اپنے بیٹے سمیت چھٹ گیا لیکن دوسرا میری قادیان سے روانگی تک (یعنی ۱۹۲۴ ء جولائی ) تک قید تھا اور مجھے معلوم نہیں کہ اس کا اب کیا حال ہے؟ دوسرا جو آزاد ہو گیا تھا اس کو ایام گرفتاری میں اس قدر مارا گیا کہ وہ