شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 247 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 247

247 تھا اس نوجوان کا والد غزنی کے علاقہ کا رئیس تھا۔اور غزنی کا گورنر بھی رہا ہے یہ نوجوان بھی وفد کے ساتھ تھا۔اس کو دیکھ کر کئی ممبران وفد کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ ایسے معزز خاندانوں کے بچے اس عمر میں اپنے عزیزوں سے جدا ہو کر دوسرے وطنوں کو جانے پر مجبور ہوں۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو ہر میچیسٹی امیر امان اللہ خان کے وقت میں نہ ہوگا۔اور ایشیا ئی طریق پر اپنے سینوں پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ تم واپس وطن کو چلو۔دیکھیں تو تم کو کون ترچھی نظر سے دیکھتا ہے۔اس ملاقات کے نتیجہ میں ہمارا وفد اپنے نزدیک نہایت کامیاب واپس آیا۔۔۔۔۔مزید احتیاط کے طور پر میں نے چاہا کہ امیر افغانستان کو اپنے عقائد سے بھی مطلع کر دیا جائے۔اور ہماری امن پسند عادت سے بھی آگاہ کر دیا جائے تا کہ پھر کوئی بات پیدا نہ ہو اور میں نے مولوی نعمت اللہ خان کو ہدایت کی کہ وہ محمود طرزی صاحب سے ان کی واپسی پر ملیں۔اور ان سے بعض احمد یوں پر جو ظلم ہوا ہے اس کا تذکرہ کریں۔اور امیر کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کی بھی اجازت لیں۔محمود طرزی صاحب نے ان احمدیوں کی تکلیف کا تو ازالہ کرا دیا اور اس امر کی ضمانت دی کہ جو خط امیر کے نام آئے وہ اس کو غور سے پڑھیں گے۔اس موقعہ پر ہمارے مبلغ وو نے اپنے آپ کو جس طرح گورنمنٹ کے سامنے ظاہر کر دیا تھا۔پبلک پر بھی ظاہر کر دیا۔چونکہ افغانستان کے بعض علاقوں سے یہ خبریں برا بر آ رہی تھیں کہ احمدیوں پر برابر ظلم ہورہا ہے۔ان کو بلا وجہ قید کر لیا جاتا ہے پھر ان سے روپیہ لے کر چھوڑا جاتا ہے۔اس لیے میں نے اپنے صیغہ دعوۃ والتبلیغ کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس کے متعلق افغان گورنمنٹ سے خط و کتابت کریں چنانچہ انھوں نے ایک چٹھی وزیر خار جیہ افغانستان کو لکھی اور ایک جمال پاشا تر کی مشہور جنرل کو جو سیکرٹری دعوۃ والتبلیغ کے ذاتی طور پر واقف تھے اور اس وقت افغانستان میں تھے ان سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی اس امر کے متعلق افغانستان کی گورنمنٹ سے سفارش کر یں۔