شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 246 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 246

246 احمدیت کو کیوں قبول کیا۔مگر آج آپ کو اختصار کے ساتھ اس واقعہ کی تمام کیفیت سنانا چاہتا ہوں تا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ فعل کیسا نا روا تھا۔مولوی نعمت اللہ خان کا بل کے پاس ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ سلسلہ کی تعلیم بھی حاصل کریں اور وہ قادیان چلے آئے جہاں وہ احمد یہ دینی کالج میں داخل ہوئے وہ ابھی تعلیم پارہے تھے کہ کابل کے احمدیوں کی تعلیم۔۔۔۔۔۔کے لیے ان کو وہاں بھیجنا پڑا۔چنانچہ 1919ء میں وہ وہاں چلے گئے اور چونکہ افغانستان میں احمدیوں کے لیے امن نہ تھا مخفی طور پر اپنے بھائیوں کو سلسلہ کی تعلیم سے واقف کرتے رہے۔اس عرصہ میں گورنمنٹ افغانستان نے کامل مذہبی آزادی کا اعلان کیا اور ہم نے سمجھا کہ اب احمد یوں کو اس علاقہ میں امن ہو گا۔مگر پیشتر اس کے کہ وہاں کی جماعت کے لوگ اپنے آپ کو علی الاعلان ظاہر کرتے۔مناسب سمجھا گیا کہ گورنمنٹ سے اچھی طرح دریافت کر لیا جائے۔۔۔۔۔جب محمود طرزی صاحب سابق سفیر پیرس کی امارت میں افغان گورنمنٹ کا ایک مشن برٹش گورنمنٹ سے معاہدہ صلح کرنے کے لیے آیا تو اس وقت میں نے ان کی طرف ایک وفد اپنی جماعت کے لوگوں کا بھیجا تا وہ ان سے دریافت کرے کہ کیا مذہبی آزادی دوسرے لوگوں کے لیے ہے یا احمدیوں کے لیے بھی۔اگر احمدیوں کے لیے بھی ہے تو وہ لوگ جو اپنے گھر چھوڑ کر قادیان میں آگئے ہیں واپس اپنے گھروں کو چلے جاویں۔محمود طرزی صاحب نے میرے بھیجے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ افغانستان میں احمدیوں کو اب کوئی تکلیف نہ ہوگی۔کیونکہ ظلم کا زمانہ چلا گیا ہے اور اب اس ملک میں کامل مذہبی آزادی ہے اسی طرح دوسرے ممبران وفد نے بھی یقین دلایا۔ان لوگوں میں سے جو اپنے ملک کو چھوڑ کر قادیان آگئے ہیں ایک نو جوان نیک محمد بھی ہے۔جو احمدیت کے اظہار کی آزادی نہ پا کر چودہ سال کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر چلا آیا