شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 232
232 نشان ملتی ہے۔مگر اس کی بیکسی اور ایذارسی کا تصور انسان کی بنیاد حیات کو ہلا دیتا ہے۔آپ کے دل میں اس خبر کی اشاعت اور اس کے متعلق دنیا کی مہذب حکومتوں اور شریف انسانوں کو توجہ دلانے کے لیے اس قدر جوش ہے کہ میں اس کا نقشہ نہیں کھینچ سکتا۔آپ چاہتے ہیں کہ آسمان پر جیسا یہاں ہوتا ہے بجلی کے ذریعہ بہت جلی اشتہار دیا جاوے تا کہ تمام لندن کے باشندے اس سے واقف ہوں۔بڑے بڑے پوسٹر چھپوا کر موٹروں پر رکھ کر شہر میں گشت کروائے جائیں۔اس ظلم عظیم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا گیا اور نہ رکھا جائے گا۔وو حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز خاموشی کے ساتھ دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ گئے۔ہم یہی یقین کرتے ہیں۔کہ اس شہید کا بل کی درجات کی بلندی اور اجر کے لیے خدا جانے کس کس رنگ میں دعائیں کی ہونگی (پھر) ” فور أمولوی عبدالرحیم صاحب (درد) ایم۔اے۔اور چوہدری فتح محمد صاحب کو ہدایات دے کر اخبارات کے دفتروں میں بھیجا اور نیر صاحب کو بھی اشاعت کے لیے مامور کیا اور آپ عصر کی نماز پڑھ کر انہی تجاویز میں مصروف ہو گئے۔آپ نے عزم کر لیا ہے کہ وہ اس صدائے احتجاج کو ہر آئینی طریقہ سے بلند کریں گے۔اور اس ظلم اور خون ناحق کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی سے حق کو ظاہر نہ کر دے۔(۳۰) ٹھیک پورے چار بجے ہیں کہ ایک ارجنٹ تار قادیان سے پہنچا جس نے اس حقیقت کو آشکار کیا اور اس ظلم کی کہانی کو ہم تک پہنچایا جو سرزمین کا بل میں ۳۱ را گست ۱۹۲۴ء کے دن ایک خون ناحق کے رنگ میں واقع ہوئی اناللہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - فَصَبَرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ المُسْتَعَانُ - إِنَّمَا أَشْكُوا بَنِي وَحُزْنِي إِلَى اللَّه ظالم مظلوموں کو قتل کر کے حق کو مٹانا چاہتے ہیں مگر یقین رکھیں کہ ان مظلوموں کے خون کا ایک ایک قطرہ لاکھوں طالبان حق پیدا کرے گا۔حضور کی طبیعت کئی دن سے پہلے ہی کمزور اور نا ساز تھی سیر تک کو گھر سے نہ نکل سکتے