شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 223 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 223

223 عاجز اس سے پہلے اور لوگوں کا بھی قرضدار تھا۔آپ کو چاہیے کہ آپ مہربانی کر کے ملا بیچارہ سے دریافت کریں کہ انہوں نے کس قدر میرے لئے خرچ کیا ہے۔اس سے خط لے کر حضرت خلیفہ المسح رضی اللہ تعالیٰ کے حضور بھیج دیں۔علاوہ ازیں بذریعہ تاریا خط میرے احمدی بھائیوں کو میرے حال سے اطلاع دے دیں تا وہ دعا فرما دیں کہ خدا تعالیٰ مجھے دین متین کی خدمت میں کامیاب کرے۔میں ہر وقت قید خانہ میں خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگتا ہوں۔الہی اپنے نالائق بندہ کو دین کی خدمت میں کامیاب کر۔میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخش اور قتل سے نجات دے۔بلکہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ الہی اس بندہ نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ اسلام پر قربان کر۔پس اگر قضاء الہی میں خاکسار کی موت مقد رہے تو یہ عرض ہے کہ براہ کرم و مہر بانی حقیر خادم نابکار کا کتبہ اصحاب مسیح موعود علیہ السلام کے زمرہ میں مقبرہ بہشتی میں لگا دیا جائے۔خادم کا نام۔۔۔عمر ۳۴ سال ، والد کا نام امان اللہ ضلع پنجشیر - تحصیل رخہ موضع خوجہ - میرے احمدی بھائی آگاہ رہیں کہ خاکسار کی موت سے نہ ڈریں۔اس وقت آزادی کی نسبت قید خانہ میں ہزار ہا درجہ زیادہ لذت حاصل ہو رہی ہے۔اور خدا تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ موت سے مجھے زیادہ لذت حاصل ہو گی۔اس وقت تک سہ شنبہ دو مرتبہ اس خادم کا بیان لیا گیا ہے۔سنا ہے کہ میری کتابیں قبضہ میں لے لی گئی ہیں میں نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا کیا منشاء ہے۔فقط والسلام مؤرخه سه شنبه ۲۸ ذی الحج ۱۳۴۲ھ خاکسار نعمت اللہ خان احمدی از قید خانه ملا عبداللہ صاحب کو چاہیے کہ یہ خط محمد عظیم کو دے دیں۔(۲۳)