شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 219
219 سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۹۲۴ء میں لندن میں ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ ۱۹۲۳ء کے آخر میں اطلاع ملی کہ دو احمدیوں کو افغانستان کی گورنمنٹ نے قید کر لیا ہے جن میں سے ایک کا بیٹا بھی ساتھ قید کیا گیا ہے۔ان دو میں سے ایک تو دے دلا کر اپنے بیٹے سمیت چھٹ گیا لیکن دوسرا میری قادیان سے روانگی تک قید تھا اور مجھے معلوم نہیں کہ اس کا اب کیا حال ہے؟ دوسرا جو آزاد ہو گیا تھا اس کو ایام گرفتاری میں اس قدر مارا گیا کہ وہ آزاد ہونے کے بعد م اون کے اندرفوت ہو گیا‘ (۱۷) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی روانگی برائے سفر یورپ افغانستان میں بغاوت ابھی کلیۂ رفع نہیں ہوئی تھی۔اور احمد یوں پر مظالم شروع ہو گئے تھے کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو انگلستان کا سفر کرنا پڑا اس سفر کا مقصد ایک تو لندن کی مذاہب کی کانفرنس میں شمولیت اور احمدیت کے بارہ میں اپنا مقالہ سنوانا تھا اور دوسری غرض لندن میں سب سے پہلی احمد یہ مسجد کی بنیاد رکھنا تھا حضور کے دورہ لندن کی مفصل رپورٹ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی کتاب تاریخ مسجد فضل لندن اور ا اس زمانہ کے سلسلہ احمدیہ کے اخبارات و رسائل میں محفوظ ہے۔حضور مؤرخہ ۱۲ جولائی ۱۹۲۴ء بروز ہفتہ قادیان سے روانہ ہوئے۔(۱۸) انہ ہوئے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو انگلستان جاتے ہوئے عدن میں اطلاع ملی کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو گرفتار کر لیا گیا ہے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی جولائی ۱۹۲۴ء میں قادیان سے روانہ ہو کر بذریعہ ریل بمبئی پہنچے اور وہاں سے بذریعہ بحری جہاز یورپ کے لئے روانہ ہوئے آپ کے ساتھ بارہ رفقاء سفر تھے۔جب حضور عدن پہنچے تو حضرت مولوی شیر علی صاحب قائمقام امیر قادیان کے تار