شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 197
197 مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کا وطن، خاندان پیدائش، قبول احمدیت مولوی نعمت اللہ خان موضع خوجہ تحصیل - رخہ ضلع پنجشیر افغانستان کے رہنے والے تھے۔آجکل کی صوبائی تقسیم میں پنجشیر افغانستان کے صوبہ پروان میں شامل ہے۔(۱) آپ کے والد صاحب کا نام امان اللہ خان تھا آپ کی شہادت ۱۹۲۴ء مطابق ۱۳۴۳ ء ھ میں ہوئی اس وقت ان کی عمر ۳۴ سال کے قریب تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش ۱۸۹۰ ء یا ۱۸۹۱ ء میں ہوئی۔مولوی نعمت اللہ خان صاحب نو جوانی میں خلیفہ عبدالرحمن صاحب مرحوم افغانی کے ذریعہ احمدی ہوئے خلیفہ عبدالرحمن صاحب حضرت صاحبزادہ عبدالطیف صاحب شہید کے شاگرد تھے۔ان کا تعلق قبیلہ صافی افغان سے تھا قریہ دہ سبز صوبہ کابل کے رہنے والے تھے خلیفہ صاحب کی وفات ۱۷ار دسمبر ۱۹۶۵ء کو ہوئی۔مولوی نعمت اللہ خان جوانی میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے قادیان آگئے تھے اور مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پاتے تھے (۲) افغانستان کے سیاسی و مذہبی حالات اس زمانہ میں افغانستان میں امیر حبیب اللہ خان کی حکومت تھی یہ دور افغانستان کے احمدیوں کے لیے شدید مشکلات کا زمانہ تھا۔ان پر ہر طرح کے مظالم ہوتے تھے۔بہت سے احباب قید کر لیے جاتے تھے اور انہیں قید خانوں میں طرح طرح کی ایذائیں دی جاتی تھیں۔جس کی وجہ سے بعض احمدی قید خانوں میں یا ان سے رہا ہونے کے بعد ان مصائب کے نتیجہ میں جن کا ان کو جیل خانوں میں سامنا کرنا پڑتا تھا فوت ہو گئے ان کی موت شہادت کی موت - امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں ہی حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد الطیف کو ۱۹۰۳ ء میں ނ سنگسار کر کے شہید کیا گیا۔اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے خاندان کو اپنے وطن سینکڑوں میل دور مزار شریف کے علاقہ میں اور اس کے بعد شہر کا بل میں سالہا سال جلا وطن رکھا گیا ان کی جڑی جائیداد کو جو خوست میں تھی ضبط کر لیا گیا علاوہ ازیں ان کے صاحبزادگان