شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 167
167 صوبہ پکتیا میں واقعہ ہے افغانستان میں داخل ہو گئے اور پھر وہاں سے کا بل کا رخ کر لیا ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ افغانستان میں تبلیغ احمدیت کریں گے اور قیاس ہے کہ وہ کابل میں احمدی احباب کو بھی ملے جو ان ایام میں حکومت کے خوف سے مخفی طور پر رہتے تھے بالآخر انہوں نے احمدیت کے شدید ترین دشمن سردار نصر اللہ خان کو درخواست بھجوائی کہ میں احمدی ہوں اور کا بل میں احمدیت کی تبلیغ کے لئے آیا ہوں۔سردار نصر اللہ خان نے فضل کریم صاحب کو تو گرفتار کر وا دیا۔اور حاکم شہر کابل نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔حاکم شہر نے فضل کریم صاحب سے دریافت کیا کہ کیا تم یہاں کسی احمدی سے واقف ہو۔اس نے کہا کہ ہاں میں صاحبزادہ سید محمد لطیف شہید کے بڑے فرزند کو جانتا ہوں اور چند اور احمدیوں کے نام لئے اس طرح وہ تمام احمدی جن کے فضل کریم نے نام لئے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے تمام لڑکے گرفتار کر کے شیر پورجیل میں ڈال دیئے گئے اس وقت صاحبزادہ محمد سعید جان صاحب۔صاحبزادہ عبد السلام جان صاحب صاحبزادہ محمد عمر جان صاحب صاحبزادہ احمد ابوالحسن قدسی صاحب اور صاحبزادہ محمد طیب جان صاحب مقید کر دیئے گئے ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں (۲۸) مکرم سید ابوالحسن قدسی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب کا بل میں جلا وطنی کو سات سال گزر گئے تو فضل کریم صاحب احمدی افغانستان آگئے اور احمدیت کی وجہ سے انہیں قید کر لیا گیا تحقیقات کے دوران اس کو سید حسین شاہ نے جو افغانستان کے پولیٹیکل محکمہ میں افسر تھا کہا کہ اگر تم احمدی ہو تو کابل میں جو احمدی ہیں ان کے نام بتا دو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔اس پر فضل کریم نے کہا کہ میں شہید مرحوم کی اولاد کو جانتا ہوں جو قادیان گئے تھے۔حالانکہ اس وقت تک ہم میں سے کوئی قادیان نہ گیا تھا۔اس طرح بن بلائے یہ مصیبت ہم پر آپڑی اور ہم سب بھائیوں کو قید کر لیا گیا اور پانچوں کو بیڑیاں ڈال دی گئیں جن میں سے ہر ایک کا وزن ساڑھے چھ سیر کے قریب تھا ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے۔اب ہمارے بارہ میں تحقیقات شروع ہوئی۔قریباً چھ ماہ کے بعد صرف چالان مکمل ہوا کہ ان کو دربار میں حاضر کیا جائے اس عرصہ میں بیڑیوں سمیت آٹھ بار در بار گئے لیکن پیشی نہ ہوئی کبھی یہ کہا جاتا کہ امیر صاحب بیمار