شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 158 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 158

158 - انتظام کر دیتا تھا کیونکہ راستہ غیر آباد تھا۔چونکہ راستہ میں خوراک وغیرہ کا خرچ ہمیں خود کرنا ہوتا تھا۔اس واسطے جمعدار سلطان علی کو خرچہ ( میں کفایت ) کا بھی بڑا خیال رہتا تھا۔(۱۶) ترکستان میں آمد اور قیام ترکستان سے مراد اس جگہ افغانستان کی مملکت کا وہ علاقہ ہے جو جانب شمال روسی ترکستان (ازبکستان ) سے متصل تھا۔سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کے لوگ اگر چه افغانستان کی حکومت کے ماتحت تھے لیکن ان کی زبان اور ثقافت پر ترکستان کے اثرات تھے۔اس بناء پر اس کو ترکستان کہہ دیا جاتا تھا ( نوٹ از مرتب ) صاحبزادہ سیدابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ تقریباً مہینہ ڈیڑھ مہینہ سفر کرنے کے بعد آخرمشکل سے ترکستان پہنچے۔وہاں مزار شریف کے شہر میں پہنچے تو بارغ از غر ( یا باغ اصغر ) میں ڈیرہ لگا دیا۔سردی کا موسم اس میں گزارا چار ماہ اس باغ میں رہے۔یہاں با قاعدہ سرائے وغیرہ تھی۔اس جگہ بھی اخراجات ہمارے اپنے تھے۔کابل سے چودہ (فوجی ) آدمی ہمارے ساتھ آئے تھے انہوں نے مزار شریف کی حدود میں آنے کی وجہ سے ہمیں یہاں کی کو توالی کے سپر د کر دیا۔جنہوں نے سات آدمی ہماری نگرانی پر مقرر کر دیئے اور جمعدار سلطان علی اور اس کے ساتھی فوجی وہاں سے واپس چلے گئے۔جب ہم ترکستان میں پہنچے تو یہاں کا نائب الحکومت مر چکا تھا اور دوسرا نیا حاکم ابھی نہیں آیا تھا۔اس وقت سرور نام ایک شخص جو ( پہلے ) وزیر مال تھا قائمقام نائب السلطنت بنا تھا۔یہ شخص پہلے سے صاحبزادگان کا واقف تھا کیونکہ صاحبزادگان کے پہلے سے حاکموں کے ساتھ تعلقات تھے۔اس نے ہم سے بڑا اچھا سلوک کیا اور کچھ غلہ بھی بطور امداد کے دیا۔اس شخص نے صاحبزادگان سے کہا کہ اس علاقہ میں جو جگہ آپ لوگوں کو آب و ہوا وغیرہ کے لحاظ سے پسند