شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 152 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 152

152 ارشادات سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف کے واقعہ شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- افسوس امیر پر کہ اُس نے کفر کے فتویٰ پر ہی حکم لگا دیا۔ہائے وہ معصوم اُس کی نظر کے سامنے ایک بکرے کی طرح ذبیح کیا گیا۔۔۔اس کا پاک جسم پتھروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور اُس کی بیوی اور اُس کے یتیم بچوں کو خوست سے گرفتار کر کے بڑی ذلت اور عذاب کے ساتھ کسی اور جگہ حراست میں بھیجا گیا۔(۱) جب مقتل پر پہنچے تو شاہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر اس حالت میں جب کہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے تو امیر ان کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچا لیتا ہوں۔اب تیرا آخر وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔تب شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر ا نکار ہوسکتا ہے اور جان کی کیا حقیقت ہے اور عیال واطفال کیا چیز ہیں جن کے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں۔مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا۔تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے۔کافر ہے اس کو جلد سنگسار کرو (۲) شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی۔۔۔ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے‘ (۳) میاں احمد ثور جو حضرت صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کے خاص شاگرد ہیں ۸ نومبر ۱۹۰۳ء کو مع عیال خوست سے قادیان پہنچے اُن کا بیان ہے۔جب گھر میں تھے اور ابھی گرفتار نہیں ہوئے تھے۔اپنے دونوں ہاتھوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے