شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 137
137 عيسى ان تكرهوا شيئاً وهُوَ خَيْرٌ لَكُم یہ ایک قسم کی تسلی ہے یعنی جب ایسا معاملہ ہو تو غم نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ اچھی نہیں ہوتیں اور بہت سی ایسی ہوتی ہیں جن کو تم نا پسند کرتے ہو اور وہ درحقیقت تمہارے لئے مفید ہوتی ہیں۔(۱۴۷) ” ہمارے دو معزز دوست کا بل میں شہید ہو چکے ہیں۔انہوں نے وہاں کوئی بغاوت نہیں کی ، خون نہیں کیا اور کوئی سنگین جرم نہیں کیا۔صرف یہ کہا کہ جہاد حرام ہے۔۔۔وہ نہایت نیک ، راستباز اور خاموش تھے۔مولوی عبد اللطیف صاحب تو بہت ہی کم گو تھے مگر کسی خود غرض نے جا کر امیر کابل کو کہ دیا اور انہیں ان کے خلاف بھڑ کا یا کہ یہ شخص جہاد کا مخالف ہے اور آپ کے عقائد کا مخالف ہے۔اس پر وہ ایسی بے رحمی سے قتل ہوئے کہ سخت سے سخت دل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اور اس امر پر غور کر کے کہ وہ کیا گناہ تھا جس کے بدلے میں وہ حل کئے گئے بے اختیار ہر شخص کو کہنا پڑے گا کہ یہ سخت ظلم ہے جو آسمان کے نیچے ہوا (ICA)-" عربی اشعار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وَ كَم مِّنْ عِبَادٍ آثَرونى بِصِدقهم عَلَى النفس حَتَّى خُوِّفُوا ثُمَّ دُمِّرُوا وَ مِنْ حِزينا عبداللطيف فَإِنَّهُ اراى نُورُ صِدْقٍ مِنْهُ خَلَقَ تَهَكَّرُوا جَزَى الله عَنّا دَائِمًا ذَلِكَ الفَتَى قَضَى نَحْبَهُ لِلَّهِ فَاذْكُر وَ فكر عِبَادٌ يكونُ كمبسرَاتٍ وُجُودُهُمْ إِذَا مَا أَتَوا فَالْغَيْثُ يَأْتِي وَ يَمُطر اتعلم ابدالاً سِوَاهُمْ فَإِنَّهُمْ رُمُوا بِالحِجَارَةِ فَاسْتَقَامُوا وَأَجْمروا ان عربی اشعار کا ترجمہ یہ ہے: (۱۴۹) بہت سے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان پر مجھ کو اختیار کر لیا۔یہاں تک کہ ڈرائے گئے اور قتل کئے گئے۔اور ہمارے گروہ میں سے مولوی عبداللطیف ہیں کیونکہ اس نے