شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 136 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 136

136 ’صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔تذکرۃ الشہا دتین کو بار بار پڑھو اور دیکھو کہ اس نے اپنے ایمان کا کیسانمونہ دکھایا ہے اس نے دنیا اور اس کے تعلقات کی کچھ بھی پروا نہیں کی۔بیوی یا بچوں کا غم اس کے ایمان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا۔دنیوی عزت اور منصب اور تنعم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔اس نے جان دینی گوارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا۔عبد اللطیف کہنے کو مارا گیا یا مر گیا مگر یقینا سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔اگر چہ اس کو بہت عرصہ صحبت میں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا۔لیکن اس تھوڑی مدت میں جو وہ یہاں رہا اس نے عظیم الشان فائدہ اٹھایا۔اس کو قسم قسم کے لالچ دیئے گئے کہ اس کا مرتبہ و منصب بدستور قائم رہے گا مگر اس نے اس عزت افزائی اور دنیوی مفاد کی کچھ بھی پروانہیں کی۔ان کو بیچ سمجھا۔یہاں تک کہ جان جیسی عزیز شئے کو جو انسان کو ہوتی ہے اس نے مقدم نہیں کیا بلکہ دین کو مقدم کیا جس کا اس نے خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔میں بار بار کہتا ہوں کہ اس پاک نمونہ پر غور کرو کیونکہ اس کی شہادت یہی نہیں کہ اعلیٰ ایمان کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے بلکہ یہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان نشان ہے جو اور بھی ایمان کی مضبوطی کا موجب ہوتا ہے کیونکہ براہین احمدیہ میں تئیس برس پہلے سے اس شہادت کے متعلق پیشگوئی موجود تھی۔وہاں صاف لکھا ہے شَاتَانِ تُذْبَحَانِ وَ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ - کيا اس وقت کوئی منصو بہ ہو سکتا تھا کہ تئیس یا چوبیس سال بعد عبدالرحمن اور عبد اللطیف افغانستان سے آئیں گے اور پھر وہاں جا کر شہید ہوں گے۔۔۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اور اپنے وقت پر آ کر یہ نشان پورا ہو گیا۔اس سے پہلے عبدالرحمن جو مولوی عبد اللطیف شہید کا شاگرد تھا ، سابق امیر نے قتل کرایا محض اس وجہ سے کہ وہ اس سلسلہ میں داخل ہے اور یہ سلسلہ جہاد کے خلاف ہے اور عبدالرحمن جہاد کے خلاف تعلیم افغانستان میں پھیلاتا تھا۔اور اب اس امیر نے مولوی عبداللطیف کو شہید کرا دیا۔یہ عظیم الشان نشان جماعت کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے