شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 135 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 135

135 پردیده دانسته لات مارتا ہے اور موت کو اختیار کرتا ہے۔اگر وہ ذرا بھی تو بہ کرتے تو خدا جانے امیر نے کیا کچھ اس کی عزت کرنی تھی۔مگر انہوں نے خدا کے لئے تمام عزتوں کو خاک میں ملایا اور جان دینی قبول کی۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ آخر دم تک اور سنگساری کے آخری لمحہ تک ان کو مہلت تو بہ کی دی جاتی ہے اور وہ خوب جانتے تھے کہ میرے بیوی بچے ہیں ، لاکھ ہا روپے کی جائداد ہے، دوست یار بھی ہیں۔ان تمام نظاروں کو پیش چشم رکھ کر اس آخری موت کی گھڑی میں بھی جان کی پروا نہ کی۔آخر ایک سرور اور لذت کی ہوا ان کے دل پر چلتی تھی جس کے سامنے یہ تمام فراق کے نظارے بیچ تھے۔اگر ان کو جبر اقتل کر دیا جاتا اور جان کے بچانے کا موقعہ نہ دیا جاتا تو اور بات تھی مگر ان کو بار بار موقعہ دیا گیا با وجود اس مہلت ملنے کے پھر موت اختیار کرنی بڑے 66 ایمان کو چاہتی ہے۔‘ (۱۴۵) وہ ایک اسوۂ حسنہ چھوڑ گئے ہیں۔۔۔عبد اللطیف صاحب مقید تھے زنجیر میں ان کے ہاتھ پاؤں میں پڑی ہوئی تھیں، مقابلہ کرنے کی ان کو قوت نہ تھی اور بار بار جان بچانے کا موقعہ دیا جاتا تھا۔یہ اس قسم کی شہادت واقع ہوئی ہے کہ اس کی نظیر تیرہ سوسال میں ملنی محال ہے۔عام معمولی زندگی کا چھوڑ نا محال ہوا کرتا ہے۔حالانکہ ان کی زندگی ایک تنعم کی زندگی تھی۔مال ، دولت ، جاہ و ثروت سب کچھ موجود تھا۔اور اگر وہ امیر کا کہنا مان لیتے تو ان کی عزت اور بڑھ جاتی۔مگر انہوں نے ان سب پر لات مار کر اور دیدہ دانستہ بال بچوں کو کچل کر موت کو قبول کیا۔انہوں نے بڑا تعجب انگیز نمونہ دکھلایا ہے۔اور اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی کوشش ہر ایک کو کرنی چاہئے۔جماعت کو چاہئے کہ اس کتاب ( تذکرۃ الشہا دتین ) - کو بار بار پڑھیں اور فکر کریں اور دعا کریں کہ ایسا ہی ایمان حاصل ہو۔(۱۴۶) ” ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک وہ بزدلی کو نہ چھوڑے گی اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک راہ میں ہر مصیبت و مشکل کے اٹھانے کے لئے تیار نہ رہے گی وہ صالحین میں داخل نہیں ہو سکتی۔۔