شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 134 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 134

134 اور اس سخت صدمہ سے تم غمگین اور اداس مت ہو کیونکہ اگر دو آدمی تم میں سے مارے گئے تو خدا تمہارے ساتھ ہے۔وہ دو کے عوض ایک قوم تمہارے پاس لائے گا اور وہ اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے اور یہ لوگ جو ان دو مظلوموں کو شہید کریں گے ہم تجھ کو ان پر قیامت میں گواہ لائیں گے اور کہ کس گناہ سے انہوں نے شہید کیا تھا۔اور خدا تیرا اجر دے گا اور تجھ سے راضی ہو گا اور تیرے نام کو پورا کرے گا یعنی احمد کے نام کو۔جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کی بہت تعریف کرنے والا۔اور وہی شخص خدا کی بہت تعریف کرتا ہے جس پر خدا کے انعام اکرام بہت نازل ہوتے ہیں۔پس مطلب یہ ہے کہ خدا تجھ پر انعام اکرام کی بارش کرے گا۔اس لئے تو سب سے زیادہ اس کا ثنا خواں ہوگا۔تب تیرا نام جواحمد ہے پورا ہو جائے گا۔پھر بعد اس کے فرمایا کہ ان شہیدوں کے مارے جانے سے غم مت کرو۔ان کی شہادت میں حکمت الہی ہے اور بہت باتیں ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وہ وقوع میں آویں حالانکہ ان کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا نہیں ہوتا اور بہت امور ہیں جو تم چاہتے ہو کہ واقع نہ ہوں حالانکہ ان کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا ہوتا ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے مگر تم نہیں جانتے۔اس تمام وحی الہی میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے وَمَا رَأَيْنَا ظُلْمًا أغْيَظ مِنْ هذَا - لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے۔(۱۴۴) مولوی عبداللطیف صاحب شہید مرحوم کا نمونہ دیکھ لو کہ کس صبر اور استقلال سے انہوں نے جان دی ہے۔ایک شخص کو بار بار جان جانے کا خوف دلایا جاتا ہے اور اس سے بچنے کی امید دلائی جاتی ہے کہ اگر تو اپنے اعتقاد سے بظاہر تو بہ کر دے تو تیری جان نہ لی جاوے گی مگر انہوں نے موت کو قبول کیا اور حق سے روگردانی پسند نہ کی۔اب دیکھو اور سوچو کہ اسے کیا کیا تسلی اور اطمینان خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہو گا کہ وہ اس طرح پر دنیا و مافیہا