شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 132 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 132

132 نہیں رہ سکتے اور دنیا کی محبت کے لئے دین کو کھو دیتے ہیں اور کسی ادنیٰ امتحان کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔خدا کے سلسلہ میں بھی داخل ہو کر ان کی دنیا داری کم نہیں ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ایسے بھی ہیں کہ وہ سچے دل سے ایمان لائے اور سچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا اور اس راہ کے لئے ہر ایک دکھ اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔لیکن جس نمونہ کو اس جوانمرد نے ظاہر کر دیا اب تک وہ قو تیں اس جماعت کی مخفی ہیں۔خدا سب کو وہ ایمان سکھا دے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔یہ دنیوی زندگی جو شیطانی حملوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے کامل انسان بننے سے روکتی ہے اور اس سلسلہ میں بہت داخل ہونگے مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھائیں گے۔(۱۴۲) ” جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبد اللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے۔اس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی روح رکھتے ہوں اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودہ ہوں۔(۱۴۳) ” براہین احمدیہ کے صفحہ پانچ سو دس اور صفحہ پانچ سو گیارہ میں یہ پیشگوئیاں ہیں۔وان لم يعصمك الناس يعصمك الله من عنده يعصمك الله من عنده و ان لم یعصمک الناس شاتان تذبحان و كلّ من عليها فان - ولا تهنوا ولا تحزنوا - اليس الله بکاف عبده - الم تعلم ان الله على كلّ شيءٍ قدير - و جئنا بک على هؤلاء شهيدا و فی الله اجرک و یرضی عنک ربک ویتم اسمک و عسی ان تحبوا شيئا و هو شر لكم و عسى ان تكرهوا شيئا وهو خير لكم و الله يعلم و انتم لا تعلمون