شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 131 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 131

131 لیا جائے چنانچہ گورنر نے سرکاری آدمی بھیجوا کر رات کو تابوت نکلوا لیا بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے خفیہ طور پر کسی اور جگہ دفن کر دیا گیا اور بعض بتاتے ہیں کہ اسے دریا میں پھینک دیا گیا۔ملاً میر وصاحب کو جو کابل سے تابوت لے کر آئے یہ سزا دی گئی کہ ان کا چہرہ سیاہ کر کے اور گدھے پر بٹھا کر تمام گاؤں میں پھرایا گیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے شہید مرحوم کی قبر کو شرک کا ذریعہ بننے سے روک دیا - (۱۴۰) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کے بارہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات ’ شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔افسوس کہ یہ امیر زیر آیت مَنْ يَقْتُلُ مُؤمِناً مُتَعَمِّدًا داخل ہو گیا اور ایک ذرہ خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا۔اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کرنا لا حاصل ہے۔ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔”اے عبداللطیف ! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد ر ہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔‘ (۱۴۱) شہید مرحوم نے مرکز میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے اور درحقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی۔اب تک ان میں سے ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص ان میں سے ادنی خدمت بجالاتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بڑا کام کیا ہے اور قریب ہے کہ وہ میرے پر احسان رکھے۔حالانکہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس خدمت کے لئے اس نے اس کو توفیق دی۔بعض ایسے ہیں کہ وہ پورے زور اور پورے صدق سے اس طرف نہیں آئے اور جس قوتِ ایمان اور انتہا درجہ کے صدق وصفا کا وہ دعویٰ کرتے ہیں آخر تک اس پر قائم