شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 130 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 130

130 میں عرض کئے حضرت شہید مرحوم کے بال اور کچھ لباس کا ٹکڑا جو وہ ساتھ لائے تھے حضور کو دئے ان بالوں میں سے اس وقت بھی خوشبو آتی تھی۔(۱۳۸) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی روایت ہے کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کے بعد ان کا کوئی مرید ان کے کچھ بال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس قادیان لایا آپ نے وہ بال ایک کھلے منہ کی چھوٹی بوتل میں ڈال کر اور اس کے اندر کچھ مشک رکھ کر اس بوتل کو سر بمہر کر دیا اور اس میں تاکہ باندھ کر اسے اپنے بیت الدعا کی ایک کھونٹی سے لٹکا دیا اور یہ سارا عمل حضور نے ایسے طور پر کیا کہ گویا ان بالوں کو آپ ایک تبرک خیال فرماتے تھے یہ بال بیت الدعا میں اس غرض سے لٹکائے ہونگے کہ دعا کی تحریک ہوتی رہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بوتل کئی سال تک بیت الدعا میں لٹکی رہی لیکن اب ایک عرصہ سے نظر نہیں آئی - (۱۳۹) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کے تابوت کا کابل سے ان کے گاؤں سید گا و لا یا جانا اور وہاں پر تدفین جب حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب کی شہادت کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو ان کے ایک ممتاز شاگر د ملا میر و اُن کا تابوت کا بل سے سید گاہ لے آئے اور وہاں دفن کر کے نامعلوم سی قبر بنادی۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد خان عجب خان صاحب آف زیدہ ضلع پشاور کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے سید گاہ والوں کو پیغام بھجوایا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی قبر اچھی طرح بنائی جائے انہوں نے کچھ مالی مدد بھی کی چنانچہ آپ کے معتقدین نے ایک بڑی پختہ قبر تعمیر کر وادی۔جب یہ بات مشہور ہوئی تو دور دراز سے لوگ زیارت کے لئے آنے لگے اور چڑھاوے چڑھنے لگے اس کی رپورٹ حکومت کا بل کو کی گئی تو سردار نصر اللہ خان نے گورنر سمت جنوبی سردار محمد اکبر خان خاصی کو حکم بھجوایا کہ صاحبزادہ صاحب کا تابوت وہاں سے نکلوا