شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 12
12 مولوی عبدالرحمن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں اپنے تین سو تیرہ صحابہ کی فہرست شائع فرمائی تھی۔اس فہرست میں مولوی عبدالرحمن صاحب کا بلی کا نام ایک سو گیارہ نمبر پر اس طرح درج فرمایا ' شیخ محمد عبد الرحمن صاحب ، عرف شعبان کا بلی“ انجام آتھم ۲۲ جنوری ۷ ۱۸۹ء کو شائع ہوئی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبد الرحمن خان صاحب ۱۸۹۷ء سے قبل قادیان آچکے تھے اور حضوراقدس کی بیعت سے مشرف ہو چکے تھے۔(1) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں : واضح رہے کہ براہین احمدیہ کی پیشگوئی میں دو شہادتوں کا ذکر ہے۔اور پہلی شہادت میاں عبدالرحمن ، مولوی صاحب موصوف ( یعنی حضرت صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب - ناقل ) کے شاگرد کی تھی۔جس کی تکمیل امیر عبدالرحمن یعنی اس امیر کے باپ سے ہوئی۔اس لئے ہم بلحاظ ترتیب زمانی پہلے میاں عبدالرحمن مرحوم کی شہادت کا ذکر کرتے ہیں (۲) بیان شهادت میاں عبد الرحمن مرحوم شاگرد مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب رئیس اعظم خوست ملک افغانستان مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے تخمینا دو برس پہلے ان کے ایماء اور ہدایت سے۔میاں عبد الرحمن شاگر درشید اُن کے قادیان میں شاید دو یا تین دفعہ آئے۔اور ہر ایک مرتبہ کئی کئی مہینہ تک رہے اور متواتر صحبت اور تعلیم اور دلائل کے سننے سے ان کا ایمان شہدا کا رنگ پکڑ گیا۔اور آخری دفعہ جب کابل واپس گئے تو وہ میری تعلیم سے پورا حصہ لے چکے تھے اور اتفاقاً ان کی حاضری کے ایام میں بعض کتابیں میری طرف سے جہاد کی ممانعت میں چھپی تھیں جن سے ان کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سلسلہ جہاد کا مخالف ہے۔پھر ایسا