شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 107
107 سمجھا جائے اور اس جرم میں سنگسار کیا جائے - (۱۰۸) وو انگریز انجینئر Mr۔Frank A۔Martin جس کا پہلے ذکر آچکا ہے بیان کرتا ہے کہ: ” جب امیر حبیب اللہ خان کو ملا (صاحب) کے قادیان جانے اور ایک نئے عقیدہ کے قبول کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا علم ہوا تو اس کے حکم کے مطابق ان کو قید کر کے کابل لایا گیا جہاں امیر نے اس کے بیان لئے لیکن انہوں نے ایسے معقول جوابات دئے کہ وہ ان میں کوئی ایسا امر نہ پاسکا جو انہیں کافر اور واجب القتل ٹھہرا تا ہو۔اس کے بعد ملا (صاحب) کو سردار نصر اللہ خان کے پاس بھیجوایا گیا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا مذہبی علم ایک ملا سے بھی زیادہ ہے لیکن سردار نصر اللہ خان بھی ان پر کوئی الزام نہ قائم کر سکا۔اس پر بارہ ملاؤں کی ایک جیوری قائم کی گئی جس نے آپ سے سوالات کئے لیکن یہ لوگ بھی کوئی ایسی بات معلوم نہ کر سکے جس کی بنا پر ان کو سزائے موت دی جاسکتی۔اس کی رپورٹ امیر کو کی گئی لیکن اس نے کہا کہ اس شخص کو سزا دی جانی ضروری ہے۔چنانچہ ان کو بعض ملاؤں کے پاس بھجوایا گیا جنہیں یہ ہدایت کی گئی کہ انہیں ایک کاغذ پر دستخط کرنے ہونگے جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ یہ شخص مرتد اور سزائے موت کا مستحق ہے لیکن ملاؤں کی اکثریت اس رائے پر قائم رہی کہ اس کا قصور ثابت نہیں ہوتا۔اس پر ان ملاؤں میں سے دوکو سردار نصر اللہ خان نے سمجھا بجھا کر آمادہ کر لیا اور انہوں نے سزائے موت کا فتویٰ دے دیا۔‘ (۱۰۹) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جب عصر کا آخری وقت ہوا تو کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔اور آخر بحث میں شہید مرحوم سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر مسیح موعود یہی قادیانی شخص ہے تو پھر تم عیسی علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہو۔کیا وہ واپس دنیا میں آئیں گے یا نہیں۔تو انہوں نے بڑی استقامت سے جواب دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اب وہ ہرگز واپس نہیں آئیں گے۔قرآن کریم ان کے مرنے اور واپس نہ آنے کا گواہ ہے۔تب تو وہ لوگ ان مولویوں کی طرح جنہوں نے حضرت عیسی کی بات کو سن کر اپنے کپڑے پھاڑ دئے تھے گالیاں دینے لگے اور کہا اب اس