شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 103
103 چاہتا ہوں کہ ان مولویوں سے جو میرے عقیدے کے مخالف ہیں میری بحث کرائی جائے۔اگر میں دلائل کے رو سے جھوٹا نکلا تو مجھے سزا دی جائے۔راوی اس قصہ کے کہتے ہیں کہ ہم اس گفتگو کے وقت موجود تھے۔امیر نے اس بات کو پسند کیا اور مسجد شاہی میں خان ملا خان اور آٹھ مفتی بحث کے لئے منتخب کئے گئے اور ایک لاہوری ڈاکٹر جوخود پنجابی ہونے کی وجہ سے سخت مخالف تھا بطور ثالث کے مقرر کر کے بھیجا گیا۔بحث کے وقت مجمع کثیر تھا اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس بحث کے وقت موجود تھے۔مباحثہ تحریری تھا۔صرف تحریر ہوتی تھی اور کوئی بات حاضرین کو سنائی نہیں جاتی تھی۔۔۔جب شاہزادہ مرحوم کی ان بدقسمت مولویوں سے بحث ہورہی تھی تب آٹھ آدمی بر ہنہ تلواریں لے کر شہید مرحوم کے سر پر کھڑے تھے‘ - (۱۰۲) میاں احمد نور کہتے ہیں کہ مولوی صاحب موصوف ڈیڑھ ماہ تک قید میں رہے اور پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ چار ماہ تک قید میں رہے یہ اختلاف روایت ہے۔اصل واقعہ میں سب متفق ہیں۔(۱۰۳) جناب قاضی محمد یوسف صاحب کا بیان ہے کہ یہ مباحثہ جامع مسجد واقعہ بازار کتب فروشی کے مدرسہ سلطانیہ کے احاطے میں طے پایا تھا۔آپ کے مقابل پر جو علماء تھے ان کے سرکردہ قاضی عبدالرزاق خان رئیس مدارس و ملائے حضور امیر اور قاضی عبدالرؤوف قندھاری تھے۔مباحثہ کا سرپنچ اور منصف ایک شخص ڈاکٹر عبدالغنی اہل حدیث باشندہ جلال پور جٹاں ضلع گجرات مقرر ہوا تھا۔ان دنوں میں کابل میں تین بھائی ڈاکٹر عبد الغنی ، مولوی نجف علی اور مولوی محمد چراغ موجود تھے۔یہ تینوں مقربان امیر تھے اور مختلف عہدوں پر مقرر تھے ان کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بوجہ اہل حدیث سے تعلق رکھنے کے خاص بغض تھا کیونکہ حضور کے اول المکفرین اہل حدیث فرقہ کے لیڈر ہی تھے۔انہوں نے اس موقعہ پر بہت سی غلط بیانیاں کر کے امیر کے کان بھرے۔چند سال پہلے جلال آباد کے علاقے کا ایک مولوی پشاور آیا تھا۔دوران گفتگو اس