شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 102
102 ہی روا نہ ہو گئے۔راستہ میں آٹھ کوس کے بعد اپنے ایک دوست کے ہاں ٹھہرے۔صبح ہوئی تو آگے روانہ ہوئے۔راستہ میں انہوں نے دیکھا کہ شدت سردی سے سینکڑوں اونٹ اور بھیٹر بکریاں مرے پڑے ہیں۔جب غڑک کے پہاڑ پر پہنچے تو شام قریب تھی بارش اور اولوں کا زور تھا۔انہوں نے ایک غار میں پناہ لی۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ بادل چھٹ گئے اور سورج نکل آیا تو آگے روانہ ہوئے۔شام ہونے تک ایک گاؤں خوشے میں پہنچ گئے اور رات گاؤں کی مسجد میں بسر کی۔اگلے روز کابل پہنچ گئے۔سردار شاہ محمد حاجی باشی کو ملے جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے دوست تھے۔ان کے ذریعہ روپیہ اور ضرورت کا سامان حضرت صاحبزادہ صاحب کو جیل میں بھجوا دیا۔سید احمد نور دوروز کابل میں حاجی باشی صاحب کے پاس رہے پھر اپنے گاؤں میں واپس آگئے۔(۱۰۰) جناب قاضی محمد یوسف صاحب کا بیان ہے کہ جب حضرت صاحبزادہ صاحب ارک شاہی کے تو قیف خانہ میں زیر حراست تھے تو آپ کو کھانا سردار عبدالقدوس خان شاہ خاصی اور بریگیڈئیر مرزا محمد حسین خان صاحب کو توال کی طرف سے بھجوایا جاتا تھا۔(۱۰۱) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب کا افغانستان کے علماء سے مباحثہ اور علماء کی ناکامی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جب چار مہینے قید کے گزر گئے تب امیر نے اپنے رو برو شہید مرحوم کو بلا کر پھر اپنی عام کچہری میں تو بہ کے لئے فہمائش کی اور بڑے زور سے رغبت دی کہ اگر تم اب بھی قادیانی کی تصدیق اور اس کے اصولوں کی تصدیق سے میرے رو بروانکار کرو تو تمہاری جان بخشی کی جائے گی اور تم عزت کے ساتھ چھوڑے جاؤ گے۔شہید مرحوم نے جواب دیا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔اس دنیا کے حکام کا عذاب تو موت تک ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اس سے ڈرتا ہوں جس کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ہاں چونکہ میں سچ پر ہوں اس لئے