شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 101 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 101

101 باز و تھا اور ہزار ہا انسان اس کے معتقد تھے وہ امیر کا بل کی نظر میں اس قدر منتخب عالم فاضل تھا کہ تمام علماء میں آفتاب کی طرح سمجھا جاتا تھا پس ممکن ہے کہ امیر کو بجائے خود یہ رنج بھی ہو کہ ایسا برگزیدہ انسان علماء کے اتفاق رائے سے ضرور قتل کیا جائے گا اور یہ تو ظاہر ہے کہ آج کل ایک طور سے عنان حکومت کا بل کی مولویوں کے ہاتھ میں ہے اور جس بات پر مولوی لوگ اتفاق کر لیں پھر ممکن نہیں کہ امیر اس کے برخلاف کچھ کر سکے۔پس یہ امر قرین قیاس ہے کہ ایک طرف اُس امیر کو مولویوں کا خوف تھا اور دوسری طرف شہید مرحوم کو بے گناہ دیکھتا تھا۔پس یہی وجہ ہے کہ وہ قید کی تمام مدت میں یہی ہدایت کرتا رہا کہ آپ اس شخص قادیانی کو مسیح موعود مت مانیں اور اس عقیدہ سے تو بہ کریں تب آپ عزت کے ساتھ رہا کر دئے جاؤ گے۔اور اسی نیت سے اس نے شہید مرحوم کو اس قلعہ میں قید کیا تھا جس قلعہ میں وہ آپ رہتا تھا تا متواتر فہمائش کا موقعہ ملتا ر ہے۔(۹۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ان کی جب مخبری کی گئی اور ان کو امیر کے روبرو پیش کیا گیا تو امیر نے ان سے یہی پوچھا کہ کیا تم نے ایسے شخص کی بیعت کی ہے؟ تو اس نے چونکہ وہ ایک راستباز انسان تھا صاف کہا کہ ہاں میں نے بیعت کی ہے۔مگر نہ تقلیداً اندھا دھند بلکہ علی وجہ البصیرۃ اس کی اتباع اختیار کی ہے۔میں نے دنیا بھر میں اس کی مانند کوئی شخص نہیں دیکھا مجھے اس سے الگ ہونے سے اس کی راہ میں جان دے دینا بہتر ہے۔(۹۹) سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے قید خانہ سے اپنے اہل وعیال کو پیغام بھجوایا کہ انہیں کچھ رقم اور بعض ضرورت کی اشیاء بھجوا دی جائیں۔سید احمد نور اس وقت اپنے گاؤں سے سید گاہ آئے ہوئے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے بیٹوں نے ان سے کہا کہ ابا نے خرچ کے لئے روپیہ منگوایا ہے کوئی لے جانے والا نہیں آپ لے جائیں۔سید احمد نور نے کہا کہ ہاں میں لے جاؤں گا۔چنانچہ وہ ہ روپیہ اور دیگر اشیاء لے کر کابل روانہ ہو گئے۔سردی کا موسم تھا اور پہاڑی راستہ تھا بارش ہو رہی تھی۔پیدل