شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 381 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 381

381 میں نے ذکر کیا تھا کہ بعضوں کے لئے الہام ٹھوکر کا موجب ہو جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو الہام کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں اور اس طرح انہیں ٹھوکر لگ جاتی ہے۔مگر مولوی عبدالستار صاحب کو کثرت سے الہامات ہوتے تھے۔باوجود اس کے انہوں نے کبھی الہامات کو اپنی بڑائی کا ذریعہ نہ بنایا۔خلافت کی اطاعت اور سلسلہ کے نظام کا احترام ان کے اندر پورے طور پر پایا جاتا تھا اور وہ ہمیشہ اپنے آپ کو سلسلہ کا جزو سمجھتے تھے۔میں نے انہیں دیکھا کہ اگر چہ وہ عبادات کی کثرت اور صحت کی کمزوری کی وجہ سے مخفی اور کمزور رہتے تھے۔مگر جب کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوا جس میں غیروں سے مقابلہ کی ضرورت پیش آئی وہ با وجود کمزوری کے جوانوں کی طرح وہاں پہنچ جاتے ابھی پچھلے دنوں میری موجودگی میں سکھوں سے جب فساد ہوا تو ایک نوجوان پٹھان نے بتلایا کہ میں کمرے سے کوئی چیز تلاش کر رہا تھا۔مولوی صاحب کہنے لگے کیا کام ہے۔میں نے کہا کہ سکھوں سے احمدیوں کی لڑائی ہوگئی ہے۔آپ اس وقت بیمار اور سخت کمزور تھے سنتے ہی گھبرا کر چار پائی پر ملنے لگے اور کہنے لگے پھر تم یہاں کیا دیکھ رہے ہو جلدی کیوں نہیں جاتے۔۔۔” وہ اپنے آپ کو نظام سے بالا نہیں سمجھتے تھے میں نے ان میں ہمیشہ یہ خوبی دیکھی کہ وہ اطاعت اور سلسلہ کے نظام کا احترام پوری طرح ملحوظ رکھتے تھے۔پٹھانوں کے لئے تو ان کا وجود ایک نعمت غیر مترقبہ تھا۔وہی انہیں پڑھایا کرتے اور وہی لڑائی جھگڑے کے موقع پر انہیں نصیحت کرتے اور سمجھاتے۔غرض بغیر اس کے کہ افغانستان سے آنے والے احمدیوں کی خبر گیری کے لئے ہمیں کچھ کرنا پڑتا وہ خود ہی ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر دیتے۔پھر خدا نے ان کو تو کل کا مقام عطا فرمایا تھا۔وہ نہایت ہی سیر چشم واقع ہوئے تھے۔اتنے عرصہ میں کہ وہ قادیان میں رہے۔مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کبھی ایک دفعہ بھی اپنی ذاتی ضروریات کے لئے مجھے کسی قسم کی تحریک کی ہو۔اور میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے سامان پیدا فرما دیا کرتا تھا کہ خود بخود ان کی ضروریات پوری ہو جاتیں کیونکہ وہ شخص