شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 375
375 آخری بیماری اور وفات جب آپ بہت ضعیف ہو گئے تو اپنے حجرہ سے کم باہر آتے تھے۔نماز کے لئے مسجد میں یا کبھی کبھی بہشتی مقبرہ جانے کے سوا کہیں نہ جاتے تھے۔آپ سال بھر بیمار رہے۔سخت بیماری کی حالت میں بھی نماز کے پابند رہے۔نوافل بھی کثرت سے پڑھتے تھے۔مرض کے آخری دنوں میں درود شریف اور یہ دعا بار بار زور سے نماز میں پڑھتے تھے اللَّهُمَّ دَمْرِ الظَّالِمِينَ تَدْمِيرًا - اللَّهُمَّ مَزَقَهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ “ جب آپ کی حالت نازک ہو گئی تو ایک شخص نے آپ سے کہا : '' آپ کے جدا ہونے سے ہمیں بڑی تکلیف ہوگی۔آپ نے فرمایا: ” خدا کرے قیامت میں جدا نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت شہید مرحوم سے جدا نہ کرے۔“ آخر مؤرخه ۱۸ اکتو بر۱۹۳۲ء کو وفات پا کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے - رَضِيَ اللَّهُ وَاَرْضَاهُ بِمَا يَرْضَى بِهِ عِبَادِهِ الْمُقَرَّبِين - آمین (۴) حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں: حضرت مولوی عبدالستار صاحب افغان المعروف بزرگ صاحب جو ایک عرصہ سے مہمان خانہ قادیان کی خاص رونق اور برکت تھے ۱۷ / اکتوبر ۱۹۳۲ء مطابق ۱۶ جمادی الآخر ا۱۳۵ھ کو اس جہان فانی سے رحلت کر کے ہمیشہ کے واسطے مقبرہ بہشتی میں جاگزین ہو گئے۔آپ کی وفات ہمارے لئے ایک قومی صدمہ ہے۔کیونکہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے خادم ، عالم با عمل، صاحب کشوف والہامات تھے۔آپ کی دعائیں اکثر احباب کے واسطے موجب تشفی اور برکات ہوتی تھیں۔آپ کا درس کئی طالبعلموں کے واسطے حصول علم کا موجب تھا۔عاجز اکثر آپ کی صحبت میں تسکین اور روحانی راحت حاصل کرنے کے واسطے جا