شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 36 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 36

36 حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف کا وطن، خاندان اور پیدائش حضرت صاحبزادہ صاحب افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقہ خوست کے رہنے والے تھے۔اُن کے گاؤں کا نام سید گاہ ہے جو دریائے عمل کے کنارہ پر آباد ہے۔پکتیا میں چند گاؤں آپ کی ملکیت تھے۔زرعی اراضی کا رقبہ سولہ ہزار کنال تھا۔اس میں باغات اور پن چکیاں بھی تھیں۔اس کے علاوہ ضلع بنوں میں بھی بہت سی زمین تھی۔آپ کے والد صاحب کا نام سید محمد شریف تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا شجرہ نسب تو جل کر ضائع ہو گیا لیکن میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ ہم حضرت سید علی ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخش کی اولاد ہیں۔ہمارے آباء دہلی کے بادشاہوں کے قاضی ہوتے تھے۔خاندان کی ایک بڑی لائبریری تھی جس کی قیمت نو لاکھ روپیہ بتائی جاتی ہے۔جب ہمارے بزرگوں نے حکومت میں عہدے حاصل کر لئے تو ان کی توجہ کتب خانہ کی طرف نہ رہی اور یہ کتا بیں ضائع ہوگئیں۔میرا اپنا یہ حال ہے کہ جائیداد چونکہ مجھے ورثہ میں ملی ہے اس لئے اسے رکھنے پر مجبور ہوں ورنہ میرا دل دولت کو پسند نہیں کرتا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ صاحبزادہ صاحب کی عمر ۵۰ سال تھی۔حضور فرماتے ہیں : قریباً پچاس برس کی عمر تک تنعم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی۔(1) حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت ۱۹۰۳ء میں ہوئی اس طرح ان کا سن پیدائش ۱۸۵۳ء بنتا ہے۔جناب قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم امیر جماعت احمد یہ صوبہ سرحد نے ۱۹۰۲ء کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو دیکھا تھا۔وہ لکھتے ہیں : حضرت شہید مرحوم کا قد درمیانہ تھا۔ریش مبارک بہت گھنی نہ تھی۔بال اکثر سیاہ تھے اور ٹھوڑی پر کچھ کچھ سفید تھے۔(۲)