شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 355
355 زمانہ میں قاضی القضاۃ کے فیصلہ کے مطابق احمدی ہونے کی وجہ سے ۶ / فروری ۱۹۲۵ء کو - بمقام شیر پور کابل شہید کیا گیا۔قاضی القضاۃ نے سنگساری کے وقت پہلا پتھر چلایا۔مولوی عبد الحلیم صاحب کی عمر سنگساری کے وقت ۵۰ سال سے زیادہ تھی۔گویا ان کی تاریخ پیدائش ۱۸۷۵ء کے قریب تھی۔مولوی سید عبد الحلیم صاحب کے متعلق سید محمود احمد افغانی کی تحقیق ہے کہ آپ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔اس بارہ میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ان کے والد محترم کا نام عبد القیوم صاحب تھا۔جن کی ایک تصنیف کتاب سیف الصارم تھی۔عبد القیوم صاحب ، مولوی مرزا عبدالقیوم صاحب کہلاتے تھے۔وزیر خارجہ مملکت افغانستان کے نام احتجاجی تار اخبار الفضل نے اپنے ۲۴ فروری ۱۹۲۵ء کے پرچہ میں وہ تار درج کی ہے۔جو قادیان سے وزیر خارجہ مملکت افغانستان کے نام بھجوائی گئی ہے۔اطلاع موصول ہوئی ہے کہ دو اور احمدی حکومت افغانستان کے حکم سے سنگسار کر دیئے گئے ہیں۔اور تمہیں آدمی زیر حراست ہیں۔جو اپنے بارہ میں فیصلہ کا انتظار کر رہے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت افغانستان باغیوں اور ملانوں کو خوش کرنے کے لئے ان مظالم کو روا رکھ رہی ہے۔یادر ہے کہ تمام مہذب دنیا حکومت افغانستان کے اس وحشیانہ فعل کو کہ اس نے ایک امن پسند سلسلہ کے دو آدمیوں کو سنگسار کیا ہے۔نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔حکومت کا بل کو خدا سے ڈرنا چاہئے اور اسے ایسے ظالمانہ اور وحشیانہ افعال سے رکنا چاہئے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا وائسرائے ہند کے نام تار جناب کو مولوی نعمت اللہ صاحب کا واقع تو معلوم ہی ہے۔جب ان کو سنگسار کیا گیا اس وقت میں لندن میں تھا اور میں نے وہاں سے آپ کو اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔اب تازہ خبر ہے کہ فروری ۱۹۲۵ء میں دو اور احمدی تاجر محض احمدیت کی وجہ سے کا بل میں سنگسار